کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کے لیے فنانس بل اور ضمنی گرانٹس کثرتِ رائے سے منظور کر لیں بجٹ پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے محدود مالی وسائل اور وفاقی سطح پر مالی دباؤ کے باوجود ایک متوازن ترقی پسند اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے جس کا مقصد صوبے میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنا اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے 720 ارب روپے کا سالانہ ترقیاتی پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جس میں صرف کراچی کے لیے 206 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ برس کے دوران مالی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے تقریباً 100 بڑے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے زرعی شعبے میں خود کفالت حاصل کی سماجی تحفظ کے پروگراموں کو وسعت دی اور صحت، تعلیم، آبپاشی، بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات پر سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رکھا۔
مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کیٹی بندر کو جدید معاشی و لاجسٹک مرکز سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اور گرین انرجی منصوبوں کو فروغ دے گی جبکہ چھوٹے کاشتکاروں کی معاونت کے لیے زرعی مالیاتی نظام بھی متعارف کرایا جائے گا انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی جانب سے حالیہ مہینوں میں سندھ کے لیے تقریباً 1.7 ارب ڈالر کے منصوبوں کی منظوری حکومت کی پالیسیوں پر عالمی اعتماد کا ثبوت ہے۔
وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں اپوزیشن کی جانب سے بجٹ اور حکومتی کارکردگی پر ہونے والی تنقید کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے مالی معاملات، ترقیاتی منصوبوں، صحت، تعلیم، کراچی کی ترقی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، تھر کول، سیلاب متاثرین کے لیے ہاؤسنگ پروگرام اور دیگر منصوبوں سے متعلق حقائق ریکارڈ پر موجود ہیں انہوں نے کہا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت اب تک 10 لاکھ مکانات مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 6 لاکھ مکانات زیر تعمیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ آج تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی سرگرمیوں اور قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں ملک کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ حکومت آئینی اور مالی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کو مزید وسعت دے گی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے ذریعے بڑے منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا جسے نہ صرف وفاق بلکہ عالمی ادارے بھی کامیاب ماڈل قرار دے رہے ہیں۔
بحث کے اختتام پر ایوان نے صوبائی بجٹ، سندھ فنانس بل 2026 اور ضمنی گرانٹس منظور کر لیں جبکہ اپوزیشن کی تمام کٹوتی کی تجاویز مسترد کر دی گئیں اجلاس کے اختتام پر اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔