تازہ ترین
Home / Home / اللہ دتہ ۔۔۔ تحریر : مسز فرحان اصغر

اللہ دتہ ۔۔۔ تحریر : مسز فرحان اصغر

*Part One……*

"بے بے جا دیکھ اندر جا کے کتنی دیر ہو گئی ہے، ابھی تک کوئی پتہ نہیں لگ رہا……”
منظور احمد نے برآمدے میں بے چینی سے ٹہلتے ہوئے کہا…..

"گئی تو تھی میں اندر، وہ اس موٹی نرس نے نکال دیا باہر ……
کہتی ہے اماں اجازت نہیں ہے۔ میں نے تو تجھے کہا تھا ماسی بختے کو بلا لے، مگر تجھے اور تیری اس ہڈ حرام بیوی کو بہت شوق تھا سرکاری ہسپتال آنے کا۔ اب کر انتظار، مجھے کیا کہتا ہے…..”
بے بے پہلے سے بھری بیٹھی تھی ……

"اچھا بے بے چل چپ کر، تیرا گھر نہیں ہے یہ۔ شروع ہو جاتی ہو، موقع محل تو دیکھا کر” منظور احمد بے بے کو چھیڑ کر پچھتایا……

"دیکھ منظور احمد میری بات سن” بے بے نے اس کا بازو پکڑ کے متوجہ کیا۔
"اب کی بار بھی اگر تیری بیوی نے مجھے پوتا نہ دیا تو میں کہہ رہی ہوں اسے چوٹی سے پکڑ کے چلتا کر دوں گی” بے بے نے اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ نچایا….

"بے بے چپ تو کر، ہسپتال ہے یہ، سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔ تُو گھر ہی رہتی تو اچھا تھا” منظور احمد منہ میں بڑبڑایا…….

"بیٹھ جا ادھر آ کے سکون سے، ابھی خبر لگ جائے گی۔ دعا کر اللّہ سوہنا تجھے پتر دے، میری بھی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، ورنہ تو کوئی اچھے کی امید نہیں تیری بیوی سے…..”
بے بے کا چپ رہنا محال تھا…..

"بے بے دعا تو کر رہا ہوں، پر بے چینی ہو رہی ہے، کافی دیر ہو گئی ہے ……”
منظور احمد نے لیبر روم کے بند دروازے کی طرف دیکھا…..

"یہ سرکاری ہسپتال والے ایسے ہی کرتے ہیں پتر، ماسی بختے نے اب تک بچہ میری گود میں بھی ڈال دینا تھا” بے بے نے پھر ماسی بختے کا قصیدہ پڑھا……

"بے بے بس کر، ماسی بختے نے پہلے جو دو بچے مار دیے میرے، وہ نہیں یاد تجھے؟” منظور احمد نے غصے سے جواب دیا…..

"بچے؟” بے بے نے آنکھیں پھیلائیں….
"اےے لڑکیاں تھیں وہ دونوں، شکر کر مر گئیں اپنی آئی پہ …..
ورنہ تین تین بیٹیاں کہاں پالتا پھرتا تُو؟ یہ ایک سوغات ہی بہت ہے” بے بے نے پاس بیٹھی پانچ سالہ مقدس کو گھورا……

"بے بے بیٹا ہی ہو گا، تُو اچھے کی امید رکھ بس”
منظور احمد نے دلاسا دیا…..

لیبر روم کا دروازہ کھلا۔
نرس باہر آ گئی۔ منظور احمد تیز قدموں سے اس کی طرف بڑھا…..

"میڈم جی بیٹا ہوا ہے نا؟ میرا بیٹا کیسا ہے؟ میری بیوی کیسی ہے؟” اس نے بے چینی سے سوال کیا…..

"ٹھیک ہے آپ کی بیوی، مگر ابھی ہوش نہیں آیا۔
روم میں شفٹ کر دیتے ہیں، پھر دو دن بعد چھٹی ملے گی…..” نرس نے رٹا رٹایا جواب دیا…….

"اور بچہ کیسا ہے؟ بیٹا ہی ہے نا جی؟”
منظور احمد اپنا من پسند جواب سننے کو بے تاب تھا…..

"نہیں، بیٹا نہیں ہے….”
نرس نے قدرے آہستہ کہا….
بے بے بھی پیچھے آ چکی تھی۔

"آئے ہائے میں مر گئی” بے بے نے سینہ پیٹا….
"پھر بیٹی ہو گئی؟ میں نے تجھے کہا تھا منظور احمد، تیری بیوی کبھی ہمیں خوشی نہیں دے سکتی، یہ منحوس ہے کمبخت ماری…..”
بے بے نے رونا پیٹنا شروع کر دیا….

"اماں تم تو چپ کرو اور آپ میری بات سنیں”
نرس نے اماں کو ڈانٹ کے منظور سے کہا۔
"سب کچھ اللّہ کی رضا اور مرضی سے ہوتا ہے۔ آپ کے ہاں بچہ تو ضرور ہوا ہے مگر نہ وہ بیٹی ہے نہ بیٹا……” نرس نے ناپ تول کے لفظ ادا کیے….

"کیا مطلب جی؟” منظور احمد نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔۔

"مطلب یہ کہ آپ کا بچہ نہ مکمل بیٹا ہے نہ بیٹی، بلکہ خواجہ سرا ہے” نرس نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا……

"کھسرا؟ کھسرا پیدا ہوا ہے؟”
بے بے نے وضاحت چاہی….
"ہاں اماں وہی” نرس نے جھنجھلا کے کہا……

منظور احمد سکتے میں آ گیا۔ اماں نے اس کی بیوی کو کوسنے دینے شروع کر دیے…..
"ہمیں نہیں چاہیے ایسا منحوس بچہ، اس کو ادھر ہی ختم کر دو اور اس جنم جلی بتول کو طلاق دے منظور احمد……”
بے بے نے اس کا کندھا ہلا کر کہا…..

"اماں ہوش کرو، کیسی جاہلوں والی باتیں کر رہی ہو؟ یہ سب اللّہ کی دین ہے، اس میں آپ کی بہو کا کوئی قصور نہیں” نرس نے
اماں کو جھاڑا…..
"شرم کریں آپ لوگ، اور اگر بچےّ کو مارنے یا ختم کرنے کی کوشش کی تو میں پولیس کو انفارم کر دوں گی، تھانے میں بند ہو جاؤ گے تم دونوں” نرس نے اماں کو ڈرایا…….

دونوں نے وقتی طور پر زبان بند کر لی، مگر اسی شام بتول اور بچے کو گھر لے آئے۔ مقدس کی خوشی دیدنی تھی، اسے بھائی مل گیا تھا۔
بتول البتہ گہری سوچ میں سینے سے بچے کو لپٹائے لیٹی رہی……
بے بے صبح سے شام کوسنے دیتی، "طلاق طلاق” کا کہتے بے بے کی زبان خشک ہو گئی، مگر منظور احمد اپنی پرانی محبت بتول کو چھوڑنے پہ راضی نہ ہوا تو بے بے کی نظر میں "رن مرید” ہو گیا……..

گلی محلے میں بات پھیل گئی۔ ہمسائے دیواروں سے جھانکتے، بے بے کا خون کھولتا۔ کسی کا کھیلتا بچہ ان کے سینے میں اپنے پوتے کی آگ بھڑکا دیتا، آخر میں وہ غصہ بتول اور بچےّ پہ اترتا……
منظور احمد نے نفرت پال لی تھی، بچےّ کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ بتول سارا دن اسے سینے سے چپکائے کام کرتی رہتی…..
اس پہ بے بے کے طعنوں کا اثر نہیں ہوتا تھا، اس کے لیے یہی کافی تھا کہ منظور احمد نے اسے طلاق نہیں دی تھی……
مقدس بہت پیار کرتی بھائی سے، وہ تھا ہی بہت خوبصورت……

پندرہ دن کا ہو گیا بچہ، باپ اور دادی نے حرام سمجھ کر ہاتھ نہیں لگایا….
بتول نے اللّہ کی دی نعمت سمجھ کر
اللہ دتہ
نام رکھا۔ اسے لگتا جیسے اس نے اپنی کوکھ سے دو وجود پیدا کیے ہیں: ایک جیتا جاگتا وجود اللہ دتہ، اور دوسرا اس کے ساتھ ایک وجود نفرت کا………..

جاری ہے…….

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

جامعہ کراچی کے آئی سی سی بی ایس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے داخلوں کا آغاز

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے