اسلام آباد (رپورٹ: محمد جواد بھوجیہ) وفاقی وزارت صحت (نیشنل ہیلتھ سروسز ) اور پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے 15سال گذر جانے کے باجود فیڈرل ڈرگ سرویلنس لیبارٹری کی تکمیل کا عمل پورا نہ ہوسکا۔ جبکہ تاحال اس پر عوامی ٹیکسز کا 15کروڑ سے زائد کا پیسہ خرچہ ہو چکا ہے۔ مبینہ طور پر آلات کیمیکلز پڑے پڑے کنڈم ہو چکے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایف ڈی ایس ایل لیبارٹری گھوسٹ لیبارٹری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ منصوبے کی پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈریپ میں ایڈیشنل ڈائریکٹر (کیو اے) جیسی اہم سیٹ پر برانجمان ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہیں ڈائریکٹ گریڈ 18 میں اس پراجیکٹ کا ڈائریکٹر تعینات کیا گیا تھا۔ لیبارٹری مکمل نہیں ہوئی اور انہیں ڈریپ میں بھیج دیا گیا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کا ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے سپیشل آڈٹ رپورٹ کے 15۔ 2014 کے مطابق فیڈرل ڈرگ سرویلنس لیبارٹری کیلئے گورنمنٹ آف پاکستان کے خزانے سے 6 ۔ 2005 میں 151 ملین روپے کی منظوری دی گئی تھی، لیب کو آڈٹ رپورٹ کے مطابق 18 ماہ میں مکمل ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں لیبارٹری کی جگہ فیڈرل میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اسلام آباد کو منتقل کر دی گئی اور لیبارٹری نیشنل کنٹرول لیبارٹری میں جگہ دے دی گئی لیبارٹری کے سامان کی خریداری کا سلسلہ جاری رکھا گیا لیکن لیبارٹری میں کوئی کام نہیں کیا گیا لیبارٹری کو آپریٹ کرنے کیلئے ان کے پاس کوئی سٹاف موجود نہیں تھا سامان اور مشینری کمروں میں بند کر دی گئی لیب نے اپنا پراپر ورکنگ نو سال سے زیادہ وقت میں شروع کیا، رپورٹ کے مطابق فیڈرل ڈرگ سرویلنس لیبارٹری کی بلڈنگ پر 67 ملین روپے سے زائد رقم خرچ ہوئی اسٹیبلشمنٹ اور لیبارٹری کو فعال کرنے پر 30 ملین روپے سے زائد کے اخراجات آئے 45 ملین سے زائد کے اخراجات آلات کی خریداری پر ضائع کئے گئے بلاوجہ استعمال کی گئی جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی، لیبارٹری میں موجود سارے کیمیکلز ایکسپائر پڑے ہوئے تھے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق لیبارٹری میں کچھ بھی کام نہیں ہو پا رہا جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا مکمل ضیاع ہے۔ اس لیبارٹری کا مقصد پاکستان میں ادویات کی کوالٹی کو چیک کرنا، کوالٹی ادویات کیلئے ورکنگ سٹینڈرڈ تیار کرنا، پاکستان میں نئی ادویات پر ریسرچ کرنا، مارکیٹ سے ادویات اثرات کے حوالے ڈیٹا اکٹھا کرنا اور پاکستان کے ادویات کے معیار کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق لانا تھا جس سے پاکستان کا ایکسپورٹ زیادہ ہو سکے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق گورنمنٹ کا کوئی بھی ملازم زاتی طور پر ادارے کوتاہی، نقصان، تباہی، بدعنوانی اور تباہی کا زمہ دار خود ہوگا لیکن ابھی تک اس کے زمہ داران کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہو اس حوالے سے جب پرا جیکٹ ڈائریکٹر لیبارٹری اور موجودہ (ایڈیشنل ڈائریکٹر (کیو اے) حفضہ کرم الہیٰ سے رابطہ کیا تو انہوں نے فون نہیں اٹھایا اور میسج کا جواب بھی نہیں دیا ترجمان ڈریپ نے بتایا کہ موجودہ چیف ایگزیکٹو ڈریپ لیبارٹری میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ یہ پراجیکٹ وفاقی وزارت صحت کا تھا لیبارٹری تیار ہونے کے بعد ڈریپ کے حوالے ہونی ہے ابھی لیبارٹری وفاقی وزارت صحت کے پاس ہے۔
![]()