ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) چین کی تیار کردہ الیکڑانک تسبیح کا رجحان بڑھنے لگا۔ ماہ رمضان کے دوران باقاعدگی کے ساتھ آیات کریمہ، درود شریف کا ورد اور مختلف دیگر وظائف کرنے والے افراد میں چین کی تیار کردہ الیکٹرانک تسبیح کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ جس کے استعمال سے انہیں ورد کے مخصوص اعداد و شمار کا درست اندازہ ہوتا ہے عمومی طور پر الیکٹرانک تسبیح کی طلب پورے سال رہتی ہے لیکن ماہ رمضان المبارک کے دوران وہ افراد جو عبادت میں زیادہ مصروف رہتے ہیں یا انہیں ماہ رمضان کے دوران مختلف آیات کا ختم کرنا ہوتا ہے۔ الیکٹرانک تسبیح کی خریداری کرتے ہیں۔ فی الیکٹرانک تسبیح اگرچہ تھوک کی قیمت چالیس روپے ہے لیکن انہیں مختلف قیمتوں پر فروخت کیاجارہا ہے الیکٹرانک تسبیح مرد و خواتین میں بطور فیشن بھی استعمال بڑھ گیا ہے۔ مرد حضرات کی اکثریت بغیر کسی ورد یا آیات کریمہ پڑھے اپنے ہاتھوں میں قیمتی تسبیح لے کر چل رہے ہوتے ہیں ہیں جبکہ خواتین اپنے لباس کے میچنگ کے ساتھ مختلف دیدہ زیب رنگوں کی تسبیح خریدتی ہیں۔ ماہ رمضان کے سیزن کے لئے مقامی مارکیٹوں میں پچیس سے زائد اقسام کی تسبیح دستیاب ہیں جس میں کرسٹل تسبیح، پرنٹ والی تسبیح، شیشے والی تسبیح، پلاسٹک والی تسبیح شامل ہیں۔ کلاں بازار اور پوندہ بازار میں ان کی بڑی دکانیں موجود ہیں۔ ہاتھ سے بننے والی لکڑیوں کی تسبیحوں کی فروخت میں بھی کمی آئی ہے۔ رواں سال تسبیح کی قیمت گزشتہ سال کی نسبت دس فیصد بڑھ گئی ہے۔ تسبیح کے تاجروں کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے صارفین کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے۔
![]()