ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) خیبرپختونخوا میں مقامی ادویات ساز کمپنیوں نے جان بچانے سمیت معمولی نوعیت کی ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کرکے لوگوں کی مشکلات اورپریشانیاں بڑھادی ہیں حکومت کی جانب سے پندرہ فیصد اضافے کے بجائے چالیس سے پچاس فیصد قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں دس سے پندرہ فیصد اضافے کی منظوری دی تھی تاہم ادویات فیکٹری مالکان نے پچاس فیصد تک اضافہ کردیا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں مقامی ادویات کی قیمتیں بڑھنے کے نتیجے میں عام لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے 90 روپے میں فروخت ہونے والے عام سیرپ کی قیمت اب بڑھاکر 140 تک کردی گئی ہے جبکہ جان بچانے والی ادویات تو عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہوگئی ہیں، معمولی مرض کیلئے بھی ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی صورت میں ادویات کی لمبی فہرست ہاتھ میں تھمادی جاتی ہے جو مریض کے خرید سے بھی باہر ہوتی ہیں جس کے باعث مریض ڈاکٹرکے معائنہ کے بعد ادویات کی خریداری کیلئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
![]()