کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کیماڑی میں زہریلی گیس سے بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت و متاثر ہونے کے سانحے کے خلاف پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست نمبر1323/2020 کی سماعت سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس ارشاد علی شاہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل، اٹارنی جنرل سمیت کے پی ٹی کے چیئرمین کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے جواب داخل کرنے کے لئے معززعدالت سے مہلت کی درخواست کی۔ پی ڈی پی کے وکیل عرفان عزیز ایڈوکیٹ نے معززعدالت کو بتایا کہ کیماڑی سانحے میں بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ تین دن تک کراچی بالخصوص کیماڑی کے مکین شدید ذہنی اذیت، خوف اور بے سکونی میں مبتلا رہے۔ شہری انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے نہ تو کسی قسم کا ہنگامی ریلیف دیا گیا اور نہ ہی میڈیکل کیمپ لگایا گیا۔ متاثرہ شہری اپنے پیاروں کو ہسپتالوں میں پہنچاتے رہے جن کی بڑی تعداد بروقت طبی امداد نہ ملنے اور گیس پھیلنے کے باعث دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگئے۔ اس ساری صورتحال کے ذمہ دار جہاز ہرکولیس کو بنا تحقیقات کے باآسانی روانہ کردیا گیا۔عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے معززعدالت کو بتایا کہ کراچی یونیورسٹی نے کمشنر کراچی کو متاثرین کے خون کے نمونوں کی رپوٹ پیش کی تھی، اس رپورٹ کوعدالت میں پیش کیوں نہیں کیا جارہا؟ معزز عدالت نے سرکاری وکیل کو آئندہ سماعت پر جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک کے لئے ملتوی کردی۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے عدالت کے باہر میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کیماڑی واقعہ کو 20 دن سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے اور اب تک تحقیقات ہی مکمل ہی نہیں ہوئی ہیں۔ کراچی منی پاکستان ہے، سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے جسے لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔ جہاں اداروں کو کرپشن نے تباہ و برباد کردیا ہے۔ سندھ حکومت کسی بھی معمولی ہنگامی صورتحا ل سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے اور کسی بھی غفلت و لاپرواہی کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے کراچی کو چارٹر سٹی کا آئینی درجہ دے کر اپنے تمام مسائل کا حل نکالنے کا حق دیا جائے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کیماڑی سانحہ کے متاثرین اورجاں بحق ہونے والے شہریوں کے حق میں معزز عدالت سے بلا تاخیر اور تاریخی انصاف کی امید رکھتی ہے اور عدالت سے استدعا کرتی ہے کہ سانحہ کیماڑی کی تحقیقات میں تاخیر کا نوٹس لیا جائے۔ غفلت کے مرتکب اداروں اور افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ متوفین اور متاثرین کے اہل خانہ کو معاوضہ اور روزگار فراہم کیا جائے۔
![]()