کوالالمپور (رپورٹ: عامر وقاص چوہدری) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے ملائشیا کے وزیر خارجہ سیف الدین عبداللہ سے ملاقات کی اور ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اقدامات کے خلاف واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کرنے پر جموں و کشمیر کے عوام کی طرف سے دلی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مہاتیر محمد نے پانچ اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کو ریاست پر حملہ اور قبضہ قرار دیکر جموں و کشمیر کے عوام کے دل جیت لئے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ جمو ں و کشمیر کے عوام ملائشیا کی حکومت اور عوام کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ملائشیا کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے بھی اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم مہاتیر محمد کو عالم اسلام کی ایک مضبوط اور توانا آواز قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیرنے ملائشین وزیرخارجہ کو بتایا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر حملہ کرنے کے بعد مقبوضہ ریاست کی اسی لاکھ سے زیادہ آبادی کو محاصرے میں لے رکھا ہے، ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے انہیں جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے جبکہ ریاست کو اپنی کالونی میں بدل دیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے مذید کہا کہ بھارتی حکومت کا منصوبہ ہے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی زمین اور ان کے گھر چھین کر وہاں بھارت ہندوؤں کو لاکر آباد کرے گی تاکہ مقبوضہ ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے۔ بھارتی حکومت کے یہ تمام اقدامات نہ صرف غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہیں بلکہ بین الااقوامی قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس کے لئے بھارت کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم اور جبر کے اقدامات کو کشمیریوں کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر کشمیریوں کو بھارتی استعمارسے بچائیں اور انہیں ان کا بنیادی حق، حق خود ارادیت دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کی ہندوتوا پالیسی کو خطہ کے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے لئے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی حکمران آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے اور پاکستان کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دے کر جنگ کے شعلے بھڑکانے کی پالیسی پر گامزن ہیں اور اگر یہ جنگ ہوئی تو اس کے نتائج نہ صرف خطہ کے امن کے لئے بھیانک ہوں گے بلکہ اس سے پوری دنیا پر انتہائی منفی اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان اور ملائشیا کے درمیان انتہائی قریبی اور برادرانہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک اہم عالمی مسائل پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک دنیا میں اسلام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور اسلاموفوبیا کا بھی گہرا ادراک رکھتے ہیں۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ملائشیا کے وزیر خارجہ سیف الدین عبداللہ نے کہا کہ ملائشیا کے عوام کی مسئلہ کشمیر کے ساتھ گہری دلچسپی ہے اور اس تنازعہ کے حوالے سے ملائشیا کے عوام میں مکمل آگاہی اور شعور موجود ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملائشیا کے عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور حق خودارادیت کے حصول کے لئے ان کی جائز اور منصفانہ جدوجہد کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملائشیا امن اور خوشحالی پر یقین رکھنے والا ملک ہے اور وہ مسئلہ کشمیر کا پر امن سیاسی و سفارتی حل چاہتا ہے۔ وزیر خارجہ سیف الدین عبداللہ نے اہل جموں و کشمیر کو اپنے بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک آزاد جموں و کشمیر میں ثقافتی، سماجی اور معاشی سرگرمیاں شروع کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے ملائشین وزیر خارجہ کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر کے لئے نیک جذبات کا اظہار کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے آزاد کشمیر اور ملائشیا کے درمیان تعلقات کو مذید مستحکم کرنے کے لئے مظفرآباد میں جلد ایک کلچرل سینٹر قائم کیا جائے گا اور آزاد کشمیر کی حکومت ملائشیا کے سرمایہ کاروں کی طرف سے معدنیات اور صنعتی شعبہ میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملائشیا کو آسیان ممالک کی طر ف بڑھنے کے لئے پہلا دروازہ تصور کرتے ہیں۔ صدر سردار مسعود خان نے اس موقع پر ملائشین رابطہ کونسل برائے اسلامک آرگنائزیشن کا بھی شکریہ ادا کیا۔
![]()