راجن پور (رپورٹ: قاضی انعام باری) کروڑوں روپے کی کثیر لاگت سے بننے والا شہر سے گزرنے والی بھاری ٹریفک کی روک تھام کے لئے بنایا جانے والا غربی بائی پاس شہریوں کی سہولت کی بجائے عذاب بننے کے ساتھ ساتھ حادثات و گھنٹوں ٹریفک جام کا سبب بننے لگا جبکہ سیوریج کا گندہ پانی سڑکوں پر آنے اور سیوریج لائن کے گٹروں کے مین ہولز پر ڈھکن نصب نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جام پور شہر کی ٹریفک کے رش کو ختم کرنے کے لئے بنائے جانیوالا غربی بائی پاس کی جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے گڑھے پڑگئے۔ مین داجل چوک سے تارے والا اسکول تک خطرناک گڑھوں سے کسی بھی وقت کوئی حادثہ رونما ہوسکتا ہے جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہوسکتا ہے جبکہ سڑک کی ٹوٹ پھوٹ کے باعث ٹرانسپورٹروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب تارے والا اسکول کے قریب کھوسہ کالونی اور عوامی کالونی کے مکین بھی روڈ کے خراب ہونے اور تحصیل انتظامیہ اور ملازمین کی عدم توجہی کے باعث بھی سخت مشکلات سے دوچار ہیں سیوریج کا گندا پانی سڑکوں پر جمع رہتا ہے جس سے شہریوں کی آمدورفت میں شدید دشواری کا سامنا ہے گندے پانی کی بدبو سے تعفن پھیل رہا ہے اور شہری مختلف وبائی امراض کا شکار ہو رہے ہیں حکومتی عدم توجہی اور تحصیل انتظامیہ کے”سرپھرے“ افسران کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی سے شہریوں کا جینا حرام ہو گیا ہے جس سے شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ کچھ دنوں قبل ڈپٹی کمشنر راجن پور کی جام پور میں کھلی کچہری کے دوران عوامی شکایات کے پیش نظر ڈی سی راجن پور نے فی الفور سیوریج لائن کے گٹروں پر بنے مین ہولز کے ڈھکن لگانے کے احکامات جاری کیے جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہ ہوئی اور ڈپٹی کمشنر کے احکامات کو تحصیل انتظامیہ نے ہوا میں اڑا دیا دریں اثناء شہریوں الیاس، یاسر، کلیم اللہ قریشی، عبدالغفار الماس، احمد بخش، اللہ وسایا، محمد جہانزیب، محمد کاشف سمیت دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سیوریج کا گندا پانی، گٹروں کے مین ہولز کے ڈھکن کی عدم تنصیب اور ٹوٹا ہوا بائی پاس ان کے لئے مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے شہریوں کا شکوہ ہے کہ روڈ کی مرمت نہ ہونے سے آئے روز حادثات رونما ہوتے ہیں اور ان خطرناک حادثات کے باعث وہ اپنے پیاروں کی لاشیں اُٹھا کے تھک چکے ہیں کروڑوں کے فنڈز کہاں خرچ ہوتے ہیں معلوم ہی نہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر ڈیرہ غازی خان، ڈی سی راجن پور سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز کے حادثات کی روک تھام کے لئے سڑک کی مرمت اور عوام کے لئے درد سر بنا سیوریج اور مین ہولز کے ڈھکن کی تنصیب کا مسئلہ ہنگامی بنیادوں پر حل کرنا بہت ہی ضروری ہے تاکہ عوام میں احساس محرومی کا خاتمہ ہو اور لوگ سکھ کا سانس لے سکیں گے۔
![]()