راجن پور (رپورٹ: قاضی انعام باری) جام پور میں کشمیر ریلی بد نظمی کا شکار صوبائی وزیر کو ضلع بنانے کا انتخابی وعدہ یاد دلانے پر انتظامی افسر نے مدرسہ کے طالب علم کو تھپڑ جڑ دیا، تفصیلات کے مطابق جام پور میں کشمیر ریلی میں شرکاء سے خطاب کے دوران شہریوں سمیت مذہبی، سماجی، سیاسی حلقوں کی طرف سے صوبائی وزیر سردار محسن خان لغاری کو جام پور ضلع بنانے کا انتخابی وعدہ یاد دلانے پر آگ بگولا ہوگئے جس پر اسسٹنٹ کمشنر جام پور سیف الرحمن بلوانی نے مدرسہ کے طالب علم و جمعیت علماء اسلام (ف) کے کارکن محمد سلیم کو تھپڑ دے مارا اور گریبان سے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا جس پر مذہبی رہنماؤں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور اسسٹنٹ کمشنر کو گھیرے میں لے لیا حالات کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے علماء کرام ضلعی سرپرست جے یو آئی مولانا ابوبکر عبداللہ، ضلعی جنرل سیکرٹری جے یو آئی مولانا عبدالقدوس مبشر، ضلعی سالار قاری محمد صادق چانگ، تحصیل امیر مولانا عبدالمجید ساقی، سٹی امیر مفتی محمد عمر خان گورمانی و دیگر کی مداخلت پر علماء کرام، طلباء، کارکنان اور شہریوں سے معافی مانگ کر جان چھڑانے میں عافیت جانی۔ اس وقوعہ کے بعد کشمیر کے سلسلے میں تقریب کو اختتام پذیر کردیا اور علماء کرام مولانا غلام یاسین شاکر، مفتی ارشاد احمد حقانی، حاجی محمد طفیل انصاری، مولانا قاضی انعام باری، مولانا بلال سمیت شہریوں، جام پور ضلع بناؤ محاذ کے رہنماؤں سعد اللہ قریشی، محمد جاوید کھوکھر، محمد مکی، عمران اخگر، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں ایم پی اے شازیہ عابد ایڈووکیٹ، ملک احسان عمران آرائیں، ملک سبطین سرور آرائیں، ملک محمد عابد آرائیں ایڈووکیٹ و دیگر میں شدید بے چینی پھیل گئی اور انہوں نے وقوعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ذرائع کے مطابق جام پور ضلع بناؤ تحریک کو دبانے کیلئے سیاسی حلقوں کی طرف سے شہریوں پر مقدمات درج کراکے اس مطالبے کو ہمیشہ کے لیئے چپ کرانے کے تانے بانے تیار کیے جارہے ہیں اور سوشل میڈیا پر سیاستدانوں اور اسسٹنٹ کمشنر کے خوب لتے لیے جارہے ہیں یاد رہے کہ مدرسہ کے مذکورہ طالب علم نے کسی بھی قسم کا کوئی نعرہ نہیں لگایا صرف اسپیکر پکڑنے کی پاداش میں وہ تھپڑ کی زد میں آگیا۔
![]()