مردان (رپورٹ: اصغر خان) مردان کے تھانہ شیر گڑھ کی حدود علاقہ پیرسدی سے ملنے والے گمشدہ لڑکے کی مسخ شدہ لاش کا معمہ حل، گمشدہ لڑکے کو قتل کیا گیا تھا۔ وجہ عناد قاتل اور مقتول کے مابین غیر اخلاقی تعلقات کی کوشش کا نتیجہ نکلا، گرفتار قاتل کا اعتراف جرم۔ قاتل اور مقتول قریبی دوست اور ہمسائے ہیں۔ واردات میں استعمال ہونے والا آلہ قتل بھی برآمد۔ ڈی پی او سجاد خان کی پریس کانفرنس۔ تفصیلات کے مطابق علاقہ تھانہ شیرگڑھ کی حدود شاد خان بانڈہ پیر سدی سے تعلق رکھنے والے بہادرخان ولد شاد خان نے اپنے بیٹے سلمان کی گمشدگی کی رپورٹ مورخہ 10 جنوری کو تھانہ شیر گڑھ میں درج کرائی جس پر پولیس نے کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے گمشدہ بچے کی تلاش شروع کردی، مورخہ 25 جنوری کو گمشدہ بچے کی بری طرح مسخ شدہ لاش قریبی علاقے کی فصل گنا سے ملی، جس سے علاقہ میں کافی خوف و ہراس پھیل گیا تاہم پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کارلاتے ہوئے لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال اور بعد میں مزید میڈیکل رپورٹ کے لئے کے ایم سی ہسپتال پشاور بھیج دیا گیا جہاں سے رپورٹ کے مطابق لاش کی موت سر پر گولی لگنے سے واقع ہوئی ہے، اس سلسلے میں تھانہ شیر گڑھ پولیس نے جائے واردات سے کرائم سین یونٹ کے ذریعے مزید شواہد اکھٹے کیے اور اس واردات میں ملوث نامعلوم ملزم تک رسائی حاصل کرکے سرتاج ولد ارشاد جوکہ مقتول کا قریبی دوست اور ہمسایہ ہے کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزم نے سرسری انٹروگیشن کے دوران پولیس کو بتایا کہ مقتول اور میرے مابین دوستانہ تعلقات تھے واردات کے دن مقتول میرے ساتھ غیراخلاقی تعلقات استوار کرنا چاہتا تھا جس سے میں طیش میں آیا اور گھرسے پستول ساتھ لیکر مقتول کی بتائی ہوئی جگہ فصل گنا واقع ملکا نانو بانڈہ میں داخل ہوکر جیسے ہی مقتول میرے پیچھے آیا تو میں نے اسکے سر پر پستول سے فائر کیا جس سے لگ کر وہ گر گیا اور میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ گرفتار ملزم سے واردات میں استعمال ہونے والا آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔
![]()