کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ حکومت ریاستِ مدینہ کی بار بار رٹ لگانا بند کر دے۔ یہ ریاست مدینہ کی توہین ہے، سارے دعوے انتخابی نعرے ثابت ہوئے، سابقہ حکومتوں اور اور موجودہ حکومت میں کوئی فرق نہیں۔ نظام کی تبدیلی اور عام و خاص آدمی کا فرق مٹایا نہیں جاسکا۔ پی ٹی آئی نے اپنے ہی منشور کو پامال کر دیا۔ قانون سازی اور آرڈیننس بھی عوام کے لئے نہیں خواص کے لئے جاری ہو رہے ہیں۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اور اسمبلی میں موجود وہ ممبران اسمبلی جو اپنے حلقوں میں دو دو ارب روپے انتخابی مہم پر خرچ کر چکے ہیں، دھڑلے سے کرپشن کر رہے ہیں مگر نیب اور وزیر اعظم نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں، کیا ان کی کرپشن نئی آنے والی حکومت بے نقاب کرے گی؟ کرپٹ الیکٹ ایبلز اسمبلیوں میں آنے سے روکنے اور انتخابی نظام کو بدلے بغیر تبدیلی خواب ہی رہے گی۔ پاسبان کے پاس وژن ہے، صلاحیت ہے اور محب وطن ماہرین کی ٹیم ہے جو ملک کو حقیقی تبدیلی کی شاہراہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ وہ پاسبان پبلک سیکریٹیریٹ میں مختلف وفود سے ملاقاتوں کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے صدر عبدالحاکم قائد، جنرل سیکریٹری سردار ذوالفقار و دیگر بھی موجود تھے۔ الطاف شکور نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت یو ٹرن ماسٹر بن چکی ہے۔ پی ٹی آئی کے انتخابی منشور میں جو کچھ بیان کیا گیا اب اُس کے اُلٹ کیا جا رہاہے۔ زرداری، نواز شریف اور مشرف دور کی ٹیم نے پی ٹی آئی اور وزیر اعظم کو یرغمال بنا رکھا ہے اور الیکشن سے پہلے جو کچھ کہا گیا اُسے "چاٹنے”پر مجبور کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے کشکول توڑنے کا دعوی کیا لیکن وزارت عظمی سنبھالتے ہی کشکول تھام لیا۔ آئی ایم ایف کو دیس نکالا دینے کا دعوی کیا لیکن حکومت کے ابتدائی چند ماہ بعد ہی آئی ایم ایف کو بلا کر ملک کو معاشی غلامی میں دھکیل دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے فورم پر آزادی ء کشمیر کے بلند بانگ دعوے کئے گئے اور اب بھارتی اور امریکی گھناؤنے کھیل کا ساتھ دیا جا رہا ہے۔قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے منشور میں قوم سے وعدہ کیا گیا مگر اب ڈیڑھ سال سے مجرمانہ خاموشی طاری ہے۔ پٹرولیم نرخ کم کرنے اور پٹرولیم ٹیکس ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر اب قیمتیں آئے روز بڑھائی جا رہی ہیں۔بجلی وگیس کے نرخوں میں ہر ماہ دو بار اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ایک نصاب، ایک بورڈ اور ایک یونیفارم کا وعدہ بھی وفا نہیں ہوا۔سانحہ ساہیوال میں ملوث مجرموں کو تختہ ء دار پر لٹکانے کے بلند و بانگ دعوے اسمبلی کے فورم پر کئے گئے مگر اسے بھلا دیا گیا۔ وزیر اعظم کی یو ٹرن پالیسی اور ہر اہم معاملے پر مٹی پاؤ ڈنگ ٹپاؤ انداز حکمرانی نے ریاست مدینہ کے پاکیزہ خواب کو بھی بکھیر دیا ہے۔
![]()