کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ حکومت بانی پاکستان قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور تحریک پاکستان کے قائدین کے خوابوں کے مطابق مسئلہ کشمیر پر جاندار موقف اپنانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے قائداعظم کے قول کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے” کے مطابق کشمیر پالیسی اختیار نہیں کی جس کے نتیجے میں آج بھارتی حکومت کو یہ جرأت ہوئی کہ مقبوضہ کشمیر کی بنیادی حیثیت منسوخ کی گئی اور اب مودی حکومت نے بھارتی شہریت بل لا کر ہندتوا اور سیکولر بھارت کے چہرے سے نقاب خود ہی نوچ ڈالا ہے۔.حکومت پاکستان پر بے بسی طاری ہے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے مزید کہا کہ کشمیر کی بندر بانٹ اور کشمیر کی علیحدہ حیثیت کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ کشمیریوں کی اکثریت "کشمیر بنے گا پاکستان ” کے نعرے تلے اکھٹی ہو رہی ہے لیکن اقوام متحدہ میں جا کر بھارت اپنے وعدوں سے مُکر گیا اور اب امریکہ کی ثالثی میں جو نیا کھیل شروع کیا گیا ہے یہ قائداعظم کے فرمان اور طے شدہ کشمیر پالیسی سے انحراف ہے۔ کشمیری پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے 74 برسوں سے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں، بیٹیوں کی عصمتیں لُٹا چکے ہیں اور اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیا ر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھار ت مظلوم کشمیریوں کو اظہار رائے کی آزادی دینے سے گریز کر رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو برطانیہ نے بگاڑا اور بھارت نے غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ بھارت پاکستان کو ختم کرنے کے لئے قیام پاکستان کے پہلے دن سے سرگرم عمل ہے۔ اب عالمی طاقتیں امریکہ کی ثالثی میں کشمیر کی تقسیم کے نت نئے فارمولے بنا رہی ہیں۔ پاکستان کو یہ حل قبول نہیں ہونا چاہیئے۔ مظلوم کشمیری عوام کی اخلاقی اور مالی سپورٹ سے آگے بڑھ کر پاکستان کو اپنی شہ رگ دشمن کے خونی پنجوں سے آزاد کرالینی چاہیئے۔
![]()