![]()
دکھا گیا ذیشان کہ کیسے جان لٹائی جاتی ہے
کیسے ظلم کے سامنے آواز حق اٹھائی جاتی ہے
جھوٹ کو جھوٹ، سچ کوسچ لکھنا آسان نہیں
سر کٹا کہ ہی مگر قلم کی آبرو بچائی جاتی ہے
سمجھو اے طفل مکتب صحافت کے خارزار کو
جان ہتھیلی پہ رکھ کر یہاں خبر بنائی جاتی ہے
تازہ قبر، جوان بیوہ، یتیم بچے، اداس مائیں
اہل قلم کو ایسی ہی کہانی پڑھائی جاتی ہے
صداقت کے پرچار سےجب نالاں ہوں لوگ شاہد
ڈرانے واسطے گولیوں کی تڑتڑاہٹ سنائی جاتی ہے
مارا گیا کسی چوک میں جرم کو بے نقاب کرتے کرتے
سچے صحافی کی یہی آخری خبر لگائی جاتی ہے