کولمبو (مانیٹرنگ ڈیسک) سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر 2 گرجا گھروں اور تین ہوٹلوں میں دھماکوں سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں اور بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ایک چرچ کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو اور دوسرے کو کولمبو کے شمال میں نیگومبو کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ گرجا گھروں میں دھماکوں کے وقت مسیحی برادری کے لوگ ایسٹر کی تقریبات منا رہے تھے۔ شنگریلہ ، سینامن گرینڈ اور کنگز بری ہوٹل کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے تاہم کسی گروہ نے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حکومتی اور مصدقہ ذرائع سے دھماکوں کی تعداد اور جانی نقصان کی مکمل معلومات فی الحال جاری نہیں کی گئی تاہم سوشل میڈیا پر6 دھماکوں کی خبریں گردش کررہی ہیں۔ مقامی میڈیا نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ 150 لوگوں کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے تاہم ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔ رائٹرز کے مطابق 280 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بی بی سی نے اپنی خبر میں 200 افراد زخمی اور 50 ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیگومبو چرچ نے اپنے فیس بک پیج پر جو تصاویر شائع کی ہیں ان میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ لوگ زخمی حالت میں زمین پر پڑے ہیں، کچھ لوگوں کے کپڑے خون آلود ہیں اور چرچ کی دیواروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے سری لنکا میں ہونے والے دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے حکومت پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں سری لنکن حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایسٹر کے موقع پر سری لنکا میں گرجا گھروں اور ہوٹلوں میں ہونے والے دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر خارجہ نے ان دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
![]()