کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین ہیومن رائٹس ایڈووکیسی عبداللہ منصور نے کہا ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن یا کسی بھی رفاہی ادارے کو پہنچائی جانے والی امداد کو روکنا دراصل انسانیت کے منافی عمل ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن دنیا بھر میں رفاحی کاموں کے لئے مشہور ہے یہ پاکستان کا وقار ہے، موجودہ حکومت ان کے رفاہی کاموں سے کیوں خائف ہے؟ ادارے کو ملنے والی امدادی گاڑیوں پر پہلے بھاری ڈیوٹی عائد کردینا مزید برآں ڈیوٹی کی رقوم کی واپسی میں تاخیری حربے استعمال کرنا کسی انتقامی کاروائی کا شاخسانہ تو نہیں ہے؟ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں عبداللہ منصور نے کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن ہر پاکستانی کے لئے جانا پہچانا فلاحی ادارہ ہے جو کئی دہائیوں سے پاکستان و بیرون ملک دکھی انسانیت کی خدمت کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ بچوں، بڑوں، بزرگوں، یتیموں، بیواؤ ں غرض ان کی خدمات خدمت خلق کے حوالے سے بیحد ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایدھی فاؤنڈیشن کو بطور عطیہ دی جانے والی گاڑی کو تین کروڑ کی ڈیوٹی عائد کر کے روک لینا دراصل انسانیت کے لئے کئے جانے والے کاموں کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے۔ علاوہ ازیں کچھ دن پہلے ایدھی کی منگوائی ہوئی 270 گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی کے 19 کروڑ روپے بھی ابھی تک کسٹم حکام نے واپس نہیں کئے۔ کسٹم حکام کو معلوم ہونا چاہیئے کہ دنیا بھر میں سماجی اور رفاہی کام کرنے والی این جی اوز ان ڈیوٹیز سے مستثنی ہوتی ہیں۔ پھر چاہے وہ کسی سماجی کام کے لئے خود کوئی چیز منگوائیں یا کہیں سے کوئی انہیں عطیہ کرے ان کے لئے یہ ڈیوٹی نہیں ہوتی۔ ایدھی فاؤنڈیشن ایک بین الاقوامی این جی او ہے جس نے ملک و قوم کے لئے ہر موقعہ پر اور ہر مصیبت میں اپنی خدمات فراہم کی ہیں۔ عوامی فلاح و بہبود کے وہ کام جو حکومت کے کرنے کے ہیں وہ تمام کام غیر سیاسی و غیر حکومتی تنظیمیں کر رہی ہیں پھر بھی حکومتی ادارے ان تنظیموں کے کاموں میں رکاوٹ کیوں بن رہے ہیں؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت بھی سماجی کاموں کے حوالے سے سماجی تنظیموں کی سرپرستی کرتی، انہیں مزید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناتی, بجائے اس کے پریشانیوں کے پہاڑ کھڑے کرنا سراسر نا انصافی اور ظلم ہے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی ہمیشہ ظلم کے خلاف سینہ سپر رہی ہے۔ ہم اہل پاکستان کی جانب سے کسٹم حکام کے اس نا مناسب رویے کی پُر زور مذمت کرتے ہیں اور حکومت پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ متعلقہ محکمے کی جانب سے ضروری کاروائی کرتے ہوئے ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ اس نا مناسب رویے کی فوری تلافی کی جائے۔ ایدھی کی گاڑیوں کو فوری ریلیز کیا جائے اور سابقہ ڈیوٹی کی مد میں ادا کی جانے والی رقم بھی واپس کی جائے۔ وزیر اعظم صاحب جس عہدے پر فائز ہیں اس کی حرمت کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ہونے والی تمام بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کا جائزہ لیں اور ان کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات کریں۔
![]()