تازہ ترین
Home / اہم خبریں / چشتی نگر میں سندھ حکومت کی جانب سے عوام کے سر سے چھت چھیننے کی کوشش بند کی جائے۔ قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی

چشتی نگر میں سندھ حکومت کی جانب سے عوام کے سر سے چھت چھیننے کی کوشش بند کی جائے۔ قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما و قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ چشتی نگر میں سندھ حکومت کی جانب سے عوام کے سر سے چھت چھیننے کی کوشش بند کی جائے۔ جب ایک شخص بارہ سال ایک جگہ رہتا ہے تو وہ جگہ اسکا قانونی حق ہوجاتی ہے، سندھ حکومت وہاں کے لوگوں کو متبادل بھی فراہم کرے۔ پولیس کے دستے لاکرجو حکومت سندھ نے تماشا کیا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سعید غنی اور مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ ہم ایک گھر بھی نہیں گرائیں گے۔ ناصر حسین شاہ سے گزارش کی تھی علاقہ مکینوں سے بات کی جائے۔ یہ باتیں انہوں نے رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان اور رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج اور دیگر موجود تھے۔ فردوس شمیم نقوی نے مزید کہا کہ اس قسم کی کاروائیاں پی ٹی آئی کے خلاف اینٹی پروپیگینڈا مہم ہے۔ ناصر حسین شاہ نے وعدہ کیا لیکن پھر بھی آپریشن کیا گیا۔ اس بات کی مذمت کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو اس لئے ٹارگٹ کیا جارہا ہے کہ وہاں سے پی ٹی آئی جیتی ہے۔ حکومت سندھ پر واجب ہے کہ انہیں متبادل زمین اور رہائش فراہم کی جائے۔ پولیس اور ادارے ہمارے نہیں ہیں۔ جہاں زیادتی ہوگی وہاں ہم آواز اٹھائیں گے۔ سپریم کورٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ معاملے کو دیکھیں۔ اس سے قبل بھی انکروچمنٹ کے خلاف کاروائی ہوئی تو کیا ہوا۔ ساٹھ ہزار بلڈنگز شہر میں غیر قانونی ہیں، کسی بلڈنگ کنٹرول کے ایک افسر کو بھی سزا نہیں دی گئی۔ ایک طبقے کو متاثر کرنے پر سپریم کورٹ نظر ثانی کرے۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کا کہنا تھا کہ چشتی نگر کے لوگوں نے بورڈ آف ریونیو کو چلان دئیے۔ سندھ حکومت لوگوں کو لالی پاپ دے رہی ہے۔گذشتہ روز پولیس گردی کی گئی، عوام کے ساتھ ایسا رویہ نہیں چلنے دیں گے۔ سندھ حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے پر کمیشن بنائیں اور چشتی نگر کے لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ کسی کا گھر چھینا آسان نہیں، یہ لوگوں کی جمع پونجی ہے۔ جب یہاں مکان بن رہے تھے تو سب ادارے کہاں تھے۔ اب حکومت حل نکالے اور سپریم کورٹ ذمہ داران کو کٹہرے میں کھڑا کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب لیاری ایکسپریس وے بنایا جارہا تھا تو متبادل فراہم کیا گیا۔ متبادل جگہ دینے کی ماضی کے مثالیں موجود ہیں۔ یہ ہمارے لوگ ہیں اس شہر کے باسی ہیں ان کو بے دخل کرکے سڑک پر نہیں لایا جاسکتا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

آئی بی اے اور آئی او بی ایم ایچ ای سی باسکٹ بال چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ گئے

کراچی (رپورٹ، ذیشان حسین/ اسپورٹس رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے زیر اہتمام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے