ملائیشیا، ایشیا کا ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور روز بروز مزید ترقی کر رہا ہے۔ حالیہ انتخابات میں ڈاکٹر مہاتیر محمد کی کامیابی نے عیاں کر دیا ہے کہ ملائیشیا کی عوام کرپشن اور چوری کے خلاف ہے اور ایماندار اور مخلص قیادت کو ترجیح دیتے ہیں۔ ملائیشیا میں مقیم پاکستانی مختلف کام کر کے رزق حلال کماتے ہیں اور کثیر مقدار میں زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ پاکستانی لوگ کنسٹرکشن ورکر جیسے سخت کام سے لے کر کاروبار کے میدان میں مصروف عمل ہیں۔ محنت جفا کشی ایمانداری عمومی طور پر پاکستانی قوم کی خصوصیات ہیں ۔ ملائیشیا میں مقیم پاکستانیوں کو بہت سے مسائل بھی درپیش ہیں جن کے حل کے لئے حکومت پاکستان نے ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں سفارت خانہ قائم کر رکھا ہے لیکن یہ سفارت خانہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کے اجراء کے علاوہ کوئی خاص کام نہیں کر رہا۔ ماضی قریب میں دو پاکستانی سید منظور اقبال اور ملک شہزاد (جوکہ گاڑیوں کی خریدو فروخت کے کاروبار سے منسلک ہیں) کا ایک گاڑی کی قیمت پر میانمار کے لوگوں سے تکرار ہوئی اور ان لوگوں نے ان دونوں پاکستانیوں کے ہاتھ کاٹ دئیے۔ اس کے علاوہ ایک پاکستانی کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ اس واقعہ میں بھی میانمار کے لوگ ملوث ہیں۔ ایسے انتہائی بڑے جرم و زیادتی کے ازالے اور داد رسی کے لیئے پاکستانی کمیونٹی نے جب ملایشیا میں تعینات سفیر نفیس زکریا کو ملنا چاہا تو سفارت خانے کے گیٹ بند کر کے پولیس کو بلا لیا گیا۔جو کہ ایک انتہائی غیر مناسب اقدام تھا۔ جس کی وجہ سے ایک منظم ملاقات کا پروگرام ایک مظاہرہ میں بدل گیا۔ سفیر نفیس زکریا اور دیگر عملہ کو وائسرائے ہند بننے کی بجائے پاکستانی بن کر اپنا رویہ بہتر کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ ملائیشیا میں مقیم پاکستانیوں کا ایک اور بہت بڑا مسئلہ حصول ویزا ہے۔ کوئی بھی پاکستانی بغیر ویزا کے غیر قانونی طور پر نہیں رہنا چاہتا۔ جن پاکستانیوں کے پاس ویزا موجود ہیں وہ کثیر رقم خرچ کر کے بھی ویزا کی تجدید کرواتے ہیں اور ملائیشیا کے قانون کے مطابق رہتے ہیں۔ لیکن ایک بڑی تعداد میں لوگ ایجنٹ مافیا کی بدولت غیر قانونی طور پر رہنے پر مجبور ہیں پاکستان سے ایجنٹ جھوٹ بول کر لوگوں کو سیاحتی ویزے پر بھیج دیتے ہیں کہ ملائیشیا پہنچ کر طبی معائنہ کے بعد آپ کو ورک پرمٹ دیا جائے گا۔ لیکن آمد کے کچھ عرصہ بعد ہی لوگ اوور اسٹے ہو کر غیر قانونی طور پر رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایجنٹ جھوٹ بول کر دلاسے دیتے رہتے ہیں کہ ویزا لگ جائے گا یا پھر ان لوگوں سے رابطہ ہی ختم کر دیتے ہیں۔ اس دوران اگر کوئی بندہ ملائیشین امیگریشن کے ہتھے چڑھ جائے تو وہ بھی معاملہ کی تحقیق کے بجائے بندے کو جیل بھیج دیتے ہیں۔ ان تمام حالات اور مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ملائیشیا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا پاکستانی حکومت سے شدید مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان یا کم از کم وزیر خارجہ پاکستان جلد از جلد ملائیشیا کا دورہ کریں- اور پاکستانیوں کے لیئے حصول ورک پرمٹ کو آسان کروائیں پاکستانیوں کو کام بلاواسطہ دلوائیں- کام حاصل کرنے کے لیئے درمیانی ایجنٹ اور کمیشن مافیا ختم کروائیں اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنائیں- نئے ویزے اور ورک پرمٹ کے حصول کو آسان، سستا اور تیز تر بنوائیں جو لوگ غیر قانونی طور مجبورا” رہ رہے ہیں ان کو واپس جانے کا اختیار دیا جائے لیکن ان کو بلیک لسٹ میں شامل نہ کیا جائے۔ آزاد ویزا فراہم کیا جائے یا پھر آجر کو پابند کیا جائے کہ ورکر کو ہر صورت کام اور طبی سہولیات مہیا کرے۔ لوکل جرائم پیشہ افراد سے تحفظ فراہم کیا جائے- پاکستان سے زیادہ سے زیادہ لوگ ملائیشیا بھیجنے کا معاہدہ کیا جائے۔ ملائیشیا میں مقیم پاکستانیوں سے بھی گزارش ہے کہ ملائیشیا کے قوانین کا احترام کریں، کسی بھی صورت میں قانون کو ہاتھ میں مت لیں۔ پیسہ ہمیشہ بنک کے ذریعہ سے بھیجیں۔ اسی طرح ہی ہم سب لوگ اپنے ملک پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں اور اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آخر میں پاکستانی حکومت اور بالخصوص دفتر خارجہ سے بھرپور اپیل ہے کہ ان گزارشات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔