ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان جاوید مروت نے کہا ہے کہ ناجائز منافع خوری اور گراں فروشی کو کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ زرعی اجناس کے کاروبار میں مڈل مین کا کردار ختم یا کم سے کم کرنے کیلئے تحصیل کی سطح پر کسان مارکیٹیں قائم کر نے کا فیصلہ۔ کمشنر ڈیرہ جاوید مروت کی زیر صدارت جرگہ ہال کمشنر آفس ڈیرہ میں اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈیرہ ڈویژن کے تینوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں، محکمہ خوراک و زراعت کے افسران، ایوان زراعت، انجمن تاجران کے نمائندوں اور مقامی شوگر ملز انتظامیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ہدایت کے مطابق ناجائز منافع خوری اور گراں فروشی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائیگا اور اس قبیح فعل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ نرخوں پر معیاری اشیاء کی وافر مقدار میں فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے مناسب اقدامات کیے جائیں اور ذخیرہ اندوزی، گراں فروشی میں ملوث افراد کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کی ہدایت کے مطابق زرعی اجناس کی خرید و فروخت میں مڈل مین کے کردار کو محدود کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے تحصیل کی سطح پر کسان مارکیٹیں قائم کی جا رہی ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایسی مارکیٹ کے قیام کیلئے قریشی موڑ کے قریب سائٹ کا انتخاب کیا گیا ہے جس پر ضروری سہولیات کی فراہمی کے بعد باقائدہ مارکیٹ کا آغاز کر دیا جائیگا جبکہ دیگر تحصیلوں میں بھی موزوں مقامات کے انتخابات کیلئے کام جاری ہے۔ اجلاس کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان میں کام کرنے والی شوگر ملوں کے کرشنگ سیزن کی ابتدائی، زمینداروں کو سرکاری نرخ کے مطابق بروقت ادائیگیوں اور دیگر مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ اس دوران کمشنر ڈیرہ نے ہدایات جاری کیں کہ حکومتی فیصلے کے مطابق تمام شوگر ملوں میں نومبر کے آخری ہفتے کے دوران کرشنگ کا آغاز یقینی بنایا جائے تاکہ گندم کاشت کرنے والے زمینداراپنے گنے کو بروقت کاٹ کر گندم کی کاشت کر سکیں بصورت دیگر نہ صرف متعلقہ زمینداروں، کاشتکاروں کا نقصان ہوتا ہے بلکہ گندم کی کم پیداوار کی وجہ سے ملکی معیشت پر بھی بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اجلاس کے دوران کمشنر نے سختی سے ہدایت کی کہ تجاوزات کیخلاف جاری مہم پوری تندہی سے پایہ تکمیل تک پہنچائی جائے اور نہ صرف اندرون شہر بلکہ سرکلر روڈ سمیت دیگر علاقوں میں بھی حکومتی پالیسی کے مطابق تیز تر کاروائی کی جائے۔
![]()