کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) ظفر احسن نے کہا ہے کہ صنعتوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہماری اولین ترجیح ہے، صنتعتی علاقوں کو ایک زون کے ماتحت کردیا گیا ہے، سنگل ونڈو فیسیلٹی کا آغاز ہوچکا ہے۔ انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان، کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے ایس بی سی اے کے سربراہ فرحان الرحمن، سی ای او کائٹ زبیر چھایا، مسعود نقی، نائب صدر واجد حسین، مشتاق سومرو، ندیم رشید اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ قبل ازیں کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان نے کہا کہ ملکی معیشت کے مسائل کا واحد حل انڈسٹرلائزیشن ہے، اس کے لیے ہر ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے قیام کے لیے نقشوں کی منظوری اور قواعد و ضوابط میں آسانیاں دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کی تعمیرات کے حوالے سے دہائیوں قبل بنائے گئے قوانین پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیئے، دنیا میں پیداواری تکنیک میں ترقی آچکی ہے اس لئے ہمارے ہاں بھی تعمیراتی قواعد و ضوابط کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کی صنعتی اراضی مہنگی ہوگئی ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تعمیرات کی اجازت دی جائے۔ شیخ عمر ریحان نے کورنگی صنعتی علاقے کی معاشی اہمیت اور پیداواری صلاحیت سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ فرحان الرحمن نے کہا کہ صنعت کاروں کی سہولت کے لیے اٹی میں ایس بی سی اے کی جانب سے ایک خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا تھا، اسے فعال بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کورنگی صنعتی علاقے میں تعمیرات کے نقشوں کی منظوری کے لیے کاٹی کی این او سی بھی لازمی قرار دی جائے۔ زبیر چھایا نے کہا کہ قواعد و ضوابط سے لاعلمی کے باعث بھی مسائل کا سامنا ہوتا ہے، اس کے لیے خصوصی فیسلیٹی سینٹر کا قیام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس بی سی اے کی بنیادی گائیڈ لائن فراہم کردی جائیں تو کئی مسائل دور ہوسکتے ہیں۔ مسعود نقی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں صنعتوں کی تعمیرات میں حفاظتی اقدامات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایس بی سی اے صنعتی تعمیرات کے کملیشن سرٹیفکیٹ کا فوری اجرا یقینی بنائے۔ بعدازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی ایس بی سی اے ظفر احسن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی جانب سے صنعتوں کو سہولیات اور آسانیاں فراہم کرنے کی واضح ہدایات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتی تعمیرات اور دستاویزی کارروائی کو بہ سہولت بنانے کے لیے تمام صنعتوں کو ایک ہی زون کے تحت کردیا گیا ہے اور اس کے لیے ادارے کے انتہائی قابل افسر آصف رضوی کو ڈائریکٹر مقرر کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے مطلوبہ 17 این او سیز کی تعداد کم کرکے چھ سات تک لایا گیا ہے، علاوہ ازیں ایز آف ڈوئنگ بزنس کے حوالے سے ورلڈ بینک کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس برس عالمی بینک کی ایز آف ڈوئنگ بزنس کی درجہ بندی میں پاکستان کا درجہ 128 سے بہتر ہو کر 108 پر آچکا ہے۔ انہوں نے کورنگی صنعتی علاقے سے متعلق امور نمٹانے کے لیے کاٹی میں ایس بی سی اے کے سینیئر افسر اور ڈائریکٹر ریگولیشن مشتاق سومرو کی نگرانی میں خصوصی ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی معیشت کی ترقی کے لیے صنعتوں کا فروغ ناگزیر ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے لیے ان کے مسائل کا حل اولین ترجیح رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ چند برسوں میں ایس بی سی اے کا تمام نظام کمپیوٹرائز کردیا جائے گا۔
![]()