میہڑ (رپورٹ: عبدالرحمان قمبرانی) میہڑ تعلقہ ہسپتال میں کروڑوں روپے کے بجٹ ہونے کے باوجود تباہی کے کنارے پر شہریوں کی شکایات پر نیشنل پریس کلب تعلقہ میہڑ کی ٹیم تعلقہ ہسپتال پہنچی او پی ڈی کے اوقات میں متعدد ڈاکٹر ڈیوٹی سے غائب تھے دفاتر میں کرسیاں خالی پڑی تھیں مریض انتظار کرتے رہے تعلقہ ہسپتال میہڑ کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالحمید شیخ بھی پرائیویٹ کلینک چلانے لگے، میہڑ تعلقہ ہسپتال میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین نایاب جس کے باعث کتے کے کاٹنے کے مریض ہسپتالوں کے چکر لگانے لگے، دوسری طرف میڈیکل سٹور میں ادویات کا فقدان، متعدد مریض غریب ادویات نا ملنے کی وجہ سے پریشان جبکہ مریض مسمات خالده، مسمات زاہده، محمد پريل تنيو، ممتاز سولنگی سمیت دیگر نے نیشنل پریس کلب میہڑ کے صحافیوں سے شکایات کرتے ہوئے کہا ہم روزانہ ہسپتال کے چکر کاٹ رہے ہیں ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ کلینک چلا رہے ہیں یہاں غریبوں سے ظلم کیا جا رہا ہے تعلقہ ہسپتال میں سیکڑوں ڈاکٹر ہونے کے باوجود بھی دو ڈاکٹر بیٹھ رہے ہیں وہ بھی سرکاری ادویات نا ہونے کے باعث باہر سے خریدنی پڑتی ہیں ہم غریب ہونے کی وجہ سے ادویات خرید نہیں سکتے انسولین انجیکشن بھی نہیں مل رہی انتہائی پریشان ہیں جبکہ تعلقہ ہسپتال میہڑ میں ایک ناکارہ ایمبولینس ہونے کے باعث ایمرجنسی میں مریضوں کو نہیں دی جا رہی تعلقہ ہسپتال میہڑ میں لاکھوں روپے کا جنریٹر اور پانی کی ٹانکی ناکارہ ہے تعلقہ ہسپتال میں سیکڑوں آنے والے مریض انتہائی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ غریب مظلوم اور ڈاکٹروں کے ظلم کے ستائے ہوئے میہڑ تعلقہ کےغریب لوگوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، صحت کے وزیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے تعلقہ ہسپتال میہڑ کا نوٹیس لے کر غریبوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
![]()