کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرپرسن فریال تالپور کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال، منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں اور گٹکا و ماوا کے خاتمے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی، پولیس، سی ٹی ڈی، اے این ایف اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو منشیات فروش انمول عرف پنکی کے کیس، بین الصوبائی منشیات اسمگلنگ کی روک تھام اور تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
فریال تالپور نے ہدایت کی کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے مزید ری ہیبیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جائیں اور موجودہ مراکز کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف ایک ملزم کی گرفتاری تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کا خاتمہ ضروری ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ حکومت سندھ منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔