Home / اہم خبریں / ایشیا کی سب سے بڑی گدھوں کی منڈی میں قیمتی اور نایاب گدھے لاکھوں میں فروخت، مقامی انتظامیہ کو لاکھوں کا فائدہ کاغذوں میں ہزاروں کا فائدہ درج

ایشیا کی سب سے بڑی گدھوں کی منڈی میں قیمتی اور نایاب گدھے لاکھوں میں فروخت، مقامی انتظامیہ کو لاکھوں کا فائدہ کاغذوں میں ہزاروں کا فائدہ درج

میرپورخاص (خصوصی رپورٹ: ایم ہاشم شر) بدین کے قصبے ٹنڈو غلام علی میں لگنے والی سالانہ گدھا منڈی کے دوسرے اور آخری روز فروخت ہونے والے ایٹم بم، راکٹ، میزائل، ایف 17، توپ، کلاشن کوف، میرا، چکوری، ریشمہ، شرمیلہ، کشمالہ اور ماروی نامی گدھے، گدھیاں اور خچر اپنے خریداروں کے ساتھ روانہ ہو گئے- تفصیلات کے مطابق بدین کے قصبے ٹنڈو غلام علی میں ملک کی سب سے بڑی اور قدیمی گدھا منڈی میں دوسرے روز بھی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری رہا راکٹ، لانچر، توپ، میزائل، ایٹم بم، کلاشنکوف اور ایف 17 نامی قیمتی اور نایاب گدھے تو لاکھوں میں فروخت ہوئے پر خوبصورتی اور حسن کے قدردان خرید داروں نے چکوری، میرا، ریشمہ، شرمیلہ، کشمالہ اور ماروی کو بھی بھاری قیمت میں خرید کر ہمیشہ کے لیئے اپنے ساتھ لے گئے- ٹنڈو غلام علی کی سالانہ گدھا منڈی میں لائے گئے ان گدھوں اور خچروں کے مالکان نے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے یہ نام دے رکھے ہیں- ٹنڈو غلام علی میں لگنے والی ایشاء کی منفرد گدھا منڈی میں ملتانی، ایرانی، افغانی، تھری کوھستانی اور دیگر نسل کے گدھے اور خچر فروخت کے لیے لائے گئے جن کو خوب دلہا و دلہن کی طرح روپ سنگار کر کے سجایا گیا ان گدھوں اور خچروں میں کوئی بیس ہزار میں بکا تو کوئی آٹھ لاکھ روپے میں فروخت ہوا- منڈی میں گدھوں کی ریس بھی ہوئی جس میں راکٹ، میزائل، ٹائیگر، جگنو، کشمالہ، ماروی، شرمیلہ اور طوفان نامی گدھوں اور خچروں نے برق رفتاری کا مظاہرہ کیا جنہوں نے قدردان خریدداروں کے دل اور نوٹوں کو لوٹ لیا. میرا، کشمالہ، شرمیلہ، ماروی، ریشمہ اور چکوری نامی گدھیوں کے قدردان خریدداروں نے ان کی بھاری قیمتوں میں خریداری کی وجہ ان ناموں اور کرداروں سے اپنی دیوانگی اور عشق بتایا انہوں نے کہا ان کو پانے اور خریدنے کے لیئے ہم کو اپنا سب کچھ بھی بیچنا پڑے تو سودا مہنگا نہیں ہے. ملک بھر سے گدھوں اور خچروں کی خرید فروخت کے لئے آنے والے خریداروں نے بتایا کہ یہاں پر ہم سے ٹیکس کے نام پر بھاری بھتہ تو وصول کیا جاتا ہے پر پانی اور رہائش سمیت کوئی سہولت مہیا نہیں کی جاتی- مقامی بلدیاتی ادارہ اور بااثر افراد گدھے اور خچر فروخت کرنے اور خریدنے والوں دونوں سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے- مقامی افراد اور خریداروں کے علاوہ دیگر ذرائع کے مطابق دو روز میں تیس لاکھ سے زائد کا ٹیکس وصول کیا گیا پر ریکارڈ میں چند ہزار روپے ہی ظاہر کئے گئے ہیں-

 

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

ڈی جی آئی ایس پی آر کا واضح مؤقف: بھارتی جارحیت کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دینے کا عزم

اسلام آباد، (ویب ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے