نیو یارک (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے نفرت انگیز تقاریر اوراسلام کے خلاف شرانگیز پراپیگنڈے کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات پر زوردیا ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایسی تقاریر اور اسلام کے بارے میں منفی تاثر ختم کرنے کے حوالے سے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے مذہب اور عقائد کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے تشدد اور امتیازی سلوک کے حوالے سے کہا کہ ان عوامل کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے منفی اثرات ہیں۔ وزیراعظم نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی سوچ خطرناک ہے جس سے گریز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ ایسے عوامل کی روک تھام اوراس کے حوالے سے معلوماتی بحث ومباحثے کا اہم پلیٹ فارم ہے انہوں نے کہا کہ مسلم رہنماؤں کو اس شرانگیز کوششوں کی روک تھام کیلئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو مذہبی شخصیات خصوصاً نبی آخرالزماں حضرت محمدۖ کی شان اقدس میں گستاخی کا موجب بنتی ہیں اور پوری امت مسلمہ کے جذبات ان سے مجروح ہوتے ہیں۔وزیراعظم نے دنیا بھر کی اقوام کے درمیان زیادہ رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ پر بھی زور دیا، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے حق اور مذہبی آزادی کے درمیان امتیاز کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس دیرینہ تنازعے کے منصفانہ حل کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دنیا بھر میں کمیونٹیز کے درمیان زیادہ مفاہمت اور برداشت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کیلئے علمی مباحثے کیلئے اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کو لازمی طور پر مسلمانوں کیلئے اسلام کی اہمیت اور پیغمبر اسلام حضرت محمد ۖ کیلئے محبت کو سمجھنا چاہیے۔
![]()