ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ڈیرہ شہر مسائل کا گڑھ بن گیا، کھنڈرات کا منظر پیش کرتی سڑکیں، علاج معالجے کی عدم دستیابی اور پینے کے صاف پانی سے محروم، شہری سابق حکمرانوں، سابق منتخب ممبران کے خلاف سراپا احتجاج، وزیر اعظم پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق حکومتیں بدلتی رہیں مگر ڈیرہ پھلا داں سہرا کہلانے والی سرزمین ڈیرہ اسماعیل خان کے حالات نہ بدلے جاسکے۔ آج کے دور جدید میں بھی شہری ضروریات زندگی کی اہم سہولیات سے بھی ناآشنا ہیں۔ لاکھوں کی آبادی کے لئے شہر میں واقع ڈسٹرکٹ ہسپتال میں سہولیات کا فقدان، مریضوں کو ملتان، پشاور اور اسلام آباد ریفر کیا جانے لگا ہے۔ شہری تعلیم، صحت، صاف پانی، سوئی گیس سمیت دیگر سہولتوں کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ شہر کی محض چند کلو میٹر کی سڑکیں سرکلر روڈ، دین پور روڈ، مریالی موڑ سے قریشی موڑ، مشن موڑ، درابن روڈ گڑھوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ جبکہ کئی دہائیوں قبل واٹر سپلائی کے لئے بچھائی گئی لائنیں بھی جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے گٹروں، نالوں کا گندا پانی واٹر سپلائی کی لائنوں میں شامل ہوکر شہریوں کے گھر مہیا کیا جارہا ہے جس کے استعمال سے شہری موذی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سب سے بڑا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال جس کے لئے سالانہ کروڑوں روپے کا بجٹ مختص کیا جاتا ہے کوئی قابل ذکر سہولت میسر نہیں، لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود سی ٹی سکین مشین کو فنگنشنل نہیں کیا جاسکا۔ ہسپتال کا شعبہ ایمرجنسی ناتجربہ کار ڈاکٹروں کی تجربہ گاہ میں تبدیل ہوچکا ہے جبکہ کوئی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کو چیک کرنے اور علاج معالجہ کرنے کی غرض سے موجود نہیں ہوتا جس کی وجہ سے سینکڑوں غریب مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کروانے پر مجبو ر ہوتے ہیں۔ شہریوں نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے منتخب ہونے والے وفاقی وزیر ممبر قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ اندرون شہر کی سڑکوں سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کردار ادا کریں تاکہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے شہری بھی بنیادی انسانی سہولیات سے مستفید ہوسکیں۔
![]()