کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سابق امیدوار قومی اسمبلی این اے 249 پیر سید حضرت عمر نے کہا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن کا علاقہ مسائل کے آمجگاہ بن چکا ہے جاہ بجاہ گندگی غلاظت کچرے کے ڈہیر سوریج کا گندہ پانی پورے علاقے کو تعفن زدہ اور امراض میں مبتلا کررہا ہے مگر چئیرمین ضلع غربی اظہارالدین اور اس حلقے سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی فیصل واڈا کہاں ہے جنہوں نے الیکشن سے قبل کچرے کے ڈھیروں پر بیٹھ کر الیکٹرونکس میڈیا کے کیمروں کے سامنے بلند دعوے اور وعدے کیے کہ اگر فنڈ نہ ہوئے تو میں بلدیہ ٹاؤن کے علاقوں میں زاتی پیسے سے کام کرواؤنگا اور علاقے کے بنیادی مسائل حل کرکے دم لونگا پیر سید حضرت عمر نے کہا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن نمبر 5 گل داد شاہ روڈ اقبال روڈ، رانگڑ پاڑہ، عابدہ آباد، گلشن غازی، اتحاد ٹاؤن اور 24 کی مارکیٹ دیگر علاقے کے عوام شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں لہیذا ان کو کہی سے بھی ریلیف نہیں مل رہا انہوں نے کہا کہ آج فیصل واوڈا کس منہ سے کہتے ہیں کہ کچرا اٹھانا میرا کام نہیں ہے گندگی ختم کرنا میرا کام نہیں پہلے حلقے کی عوام کو سبز باغ دکھاۓ بیوقوف بنایا اور ووٹ حاصل کرنے کے بعد شکل تک نہیں دکھائی انہوں نے کہا کہ ایم این اے اور ضلع غربی کے چئیرمین نے اپنی زمہ داریاں محسوس نہ کی اور علاقے سے گندگی غلاظت دور نہ کی تو علاقے کے عوام جگہ جگہ گھیراؤں کرینگے ان کا نکلنا بند کردینگے اور ان کا استقبال گندے انڈوں اور گلے سڑے ٹماٹروں سے کرینگے۔
![]()