تازہ ترین
Home / آرٹیکل / کراچی کا گرین لائن منصوبہ۔ اک خواب کو تعبیر کب ملے گی۔ تحریر: عاجز جمالی

کراچی کا گرین لائن منصوبہ۔ اک خواب کو تعبیر کب ملے گی۔ تحریر: عاجز جمالی

کراچی کا گرین لائن منصوبہ۔ اک خواب کو تعبیر کب ملے گی۔
تحریر: عاجز جمالی
دفتر کا حکم تھا کہ پھر سے گرین لائن منصوبے پر ایک تفصیلی رپورٹ بنائی جائے اور صبح کے شو باخبر سویرا میں بات کی جائے۔۔ گذشتہ تین سال کے دوران یہ تیسری چوتھی رپورٹ بن رہی تھی،کیمرہ مین مستنصر حسین دانش بھائی کے ساتھ لے کر پہلے تو نمائش چورنگی کی بگڑی ہوئی شکل اور تباہ حال ایم اے جناح روڈ جس کا پرانا نام بندر روڈ ہے اور قیام پاکستان سے قبل بندر گاہ جانے والی اس شاہراہ پر ٹرام چلتے تھے اور یہ ہی کراچی کا تجارتی مرکز تھا۔اب کھنڈرات جیا منظر ہے کیونکہ نمائش چورنگی پر انڈر گرائونڈ بس ڈپو بن رہا ہے۔ پراجیکٹ کے ذمے داروں کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک نمائش چورنگی سے شاہراہ کو لھول دیا جائے گا۔ البتہ کسی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں کہ شاراہ کھلنے کا مطلب گرین لائن منصوبے کے مکمل ہونے کی نوید ہے۔گرین لائن منصوبے کا افتتاح سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تین سال قبل کیا تھا چوبیس ارب روپے کی لاگت سے اس منصوبے کو جون دوہزار سترہ میں مکمل ہونا تھا۔۔ منصوبے کی تعمیر کے لئے کراچی انفرا اسٹرکچر ڈولپمنٹ کمپنی کے آئی ڈی سی ایل بنائی گئی جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے نمائندے شامل تھے۔۔ کمپنی کو بائیس کلومیٹر پر مشتمل پورا انفرا اسٹرکچر مکمل کرکے اسندھ حکومت کے حوالے کرنا تھا اور پھر سندھ حکومت کو بسیں خرید کر اس خواب کو تکمیل تک پہنچانا تھا۔۔ ہم نے دو ہزار اٹھارہ کے انتخابی مہم کے دارون دیکھا کہ وفاقی حکومت سندھ پر اور سندھ حکومت وفاق پر الزام تراشی کرتی رہی۔۔ سوال ہے کہ اب کیا ہو رہا ہے؟ جب عمران خان کی حکومت آئی تو گزشتہ برس ستمبر میں ہونے والے اجلاس میں یہ طے ہوا تھا کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کو اپنے ہاتھ میں لے کر مکمل کرے گی،خود ہی بسز خرید کرے گی اور کہا یہ گیا کہ کراچی والوں کا یہ خواب جلد پورا ہوگا۔۔لیکن گرین لائن کا خواب کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک جام کے دوران خستہ حال سڑکوں پر تعبیر کو تلاش کرتا رہا۔۔ اب پی ٹی آئی کے سابق رکن سندھ اسمبلی ثمر علی خان کی قیادت میں کے آئی ڈی سی ایل کا بورڈ کام کر رہا ہے جس نے وفاقی حکومت سے بسوں کی خریداری کے لئے دس ارب روپے کا مطالبہ کیا تاکہ تین سال کے دوران تمام بسوں کی خریداری کے بعد اس کا انتظام حکومت سندھ کے حوالے کیا جائے۔۔ دس ارب نا ہی سہی لیکن وفاق نے نئے مقالی سال کے بجٹ میں بسوں کی خریداری کے لئے ڈھائی ارب روپے مختص کیئے ہیں۔۔ لیکن پھر بھی کراچی والوں کو کسی خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر آج کے دن سے بسوں کی خریداری کے لئے ٹینڈر کا مرحلہ شروع کیا جائے تو ایک سے دو ماہ ٹھیکہ ہونے تک لگیں گے۔۔ گرین لائن کے لئے مخصوص بسوں کا کسی غیر ملکی کمپنی کو ٹھیکہ ملنے کے بعد بسوں کا پہلا کھیپ چھہ سے آٹھ ماہ تک ملے گا۔۔ میرے خِال کراچی والے اپنے اس خواب کی تعبیر کے لئے سال دو ہزار بیس کا انتظار کریں ہو سکتا ہے آئندہ بجٹ تک ہمیں گرو مندر سر سرجانی تک گرین میٹرو بسیں دوڑتی ہوئی نظر آجائیں۔ ایک سال کا منصوبہ چار سال میں مکمل ہوجائے تو بھی کراچی والوں پر سرکار کی بڑی نوازش ہوگی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

سینیٹر عرفان صدیقی۔ اسلام آباد، راولپنڈی انتظامیہ توجہ دے۔۔۔کالم نگار: سید سردار احمد پیرزادہ

یہ ایک برس سے بھی کم کی بات ہے جب کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور راولپنڈی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے