کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد جس طرح ہم نے کے ایم سی، ڈی ایم سی، ڈپٹی کمشنرز، واٹر بورڈ سمیت دیگر کے باہمی تعاون سے جو فزیبلیٹی بنائی تھی، اس کے باعث بارشوں کے درمیان شہر کی کوئی اہم شارع کسی ایک لمحہ کے لئے بھی بند نہیں ہوئی اور بارشوں کے تھمنے کے ساتھ ہی شہر کے کم و بیش تمام علاقوں سے پانی کی نکاسی کویقینی بنایا جاسکا، البتہ کچھ نشیبی علاقوں میں ابھی پانی جمع ہے، جس کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ حیدرآباد میں حیسکو کی جانب سے بجلی کی بندش نے مشکلات میں اضافہ کیا لیکن وہاں بھی اب ضلعی انتظامیہ اور اداروں نے مل کر کام شروع کردیا ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں میں وہاں بھی نکاسی آب کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔ علی زیدی نے وزیراعلیٰ سندھ سے ضرور رابطہ کیا تھا اور ان کی ہدایات پر میں نے دو بار ان سے رابطے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہیں ہوا ہے تاہم سندھ حکومت ان کے اعلان پر ان کا بھرپور ساتھ دے گی اور انہیں جو وسائل کراچی کی صفائی کے لئے درکار ہوں گے ہم انہیں ضرور فراہم کریں گے۔ پی ٹی آئی اور ان کے نفیس بھائیوں کو کراچی میں اتنی شدید بارش کے بعد امید تھی کہ انہیں ہمارے خلاف سیاست کا موقع مل جائے گا، لیکن انہیں اس میں مایوسی ہوئی اور مئیر کراچی، تمام ڈی ایم سیز کے چیئرمین اور منتخب نمائندوں، کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے افسران اور عملے نے جس باہمی اشتراک سے بارشوں میں کام کیا میں اس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ عیدالضحیٰ میں جانوروں کی آلائشوں کو فوری طور پر ٹھکانے لگانے کے حوالے سے بھی تمام ڈی ایم سیز کے میونسپل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ٹاسک دے دیا گیا ہے اور انہیں ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اپنے اپنے اضلاع کی یونین کونسل کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے ساتھ مل کر اس کام کو انجام دیں۔ عید الضحیٰ سے قبل تمام عید گاہ گراؤنڈز اور مساجد کے اطراف مکمل صفائی کے انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے بھی سندھ سولڈ ویسٹ اور ڈی ایم سیز کو ہدایات دے دی گئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز کمشنر ہاؤس کراچی میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کمشنر کراچی افتخار شالوانی، سیکرٹری بلدیات سندھ سید خالد حیدر شاہ، واٹر بورڈ کے اسد اللہ خان، ایم ڈی سندھ سولڈ ویسٹ اے ڈی سنجرانی، کے ایم سی کے اعلیٰ افسران، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور میونسل کمشنرز نے شرکت کی۔ وزیر بلدیات سندھ نے تمام افسران کو بارشوں میں دن رات کاوشوں پر انہیں شاباس دی اور ان کے کام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ تمام افسران اور ملازمین نے جس محنت، لگن اور باہمی اشتراک سے کام کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 165 ملی میٹر بارش کے باوجود کراچی کے شہریوں کو زیادہ مشکلات نہیں آئی اور تمام اہم شاہرائیں دوران بارش بھی ٹریفک کے لئے کھلی رہی۔ سعید غنی نے افسران کے اس اقدام کو بھی سراہا کہ انہوں نے تمام محکموں کے ساتھ باہمی اشتراک قائم کیا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید ایک بار پھر بارشوں کی پیشنگوئی کی گئی ہے اور مجھے امید ہے کہ جس طرح گذشتہ دنوں میں تمام نے مل جل کر کام کیا اس بار بھی کام کریں گے۔ انہوں نے تمام ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنرز اور میونسپل کمشنرز سے باری باری ان کے اضلاع کے حوالے سے رپورٹ لی اور انہیں مزید درکار مدد کے حوالے سے بھی بریفنگ لی۔ انہوں نے ہدایات دی کہ کل سے ہی شہر میں اسپرے مہم کا آغا زتمام اضلاع میں ایک ساتھ شروع کردیا جائے اور اس سلسلے میں کے ایم سی کے افسران کو ہدایات دی کہ وہ تمام اضلاع کو اس کے لئے گاڑیوں اور مشینوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ آج کا اجلاس ایک فالواپ اجلاس تھا، انہوں نے کہا کہ گذشتہ جمعہ کے روز کمشنر ہاؤس میں ہی ایک اجلاس مون سون کی بارشوں کی پیشنگوئی کے بعد طلب کیا گیا تھا اور آج کا اجلاس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مون سون بارشوں میں مئیر کراچی، تمام ڈی ایم سیز کے چیئرمین، منتخب نمائندوں، ڈپٹی کمشنرز اور میونسپل کمشنرز کے ساتھ ساتھ ان محکموں کے افسران اور ملازمین نے جس باہمی ربط کا مظاہرہ کیا اور جس طرح بارشوں کے دوران اور بعد میں شہر میں پانی کی نکاسی کے لئے اقدامات کئے اس پر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اکیلا کوئی کام نہیں کرسکتا جب تک ٹیم ورک نہ ہو اور اسی ٹیم ورک کے باعث ہم کراچی میں 165 ملی میٹر بارش کے باوجود عوام کو مشکلات سے کسی حد تک بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور انشاء اللہ ائندہ بھی چند روز کے بعد بارش کی پیشنگوئی پر ہم تیارہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارش کے باعث کراچی کے دو علاقوں یوسف گوٹھ اور سعدی ٹاؤن میں بارش کا پانی داخل ضرور ہوا لیکن گذشتہ برسوں کی نسبت اس بار پہلے سے کی جانے والی تیاریوں کے باعث پانی گھروں میں داخل نہیں ہوا تاہم سڑکوں اور گلیوں میں پانی داخل ہوگیا، جس پر پاک فوج اور سول انتظامیہ نے فوری آپریشن کرکے وہاں سے پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا۔ سعید غنی نے کہا کہ میں نے جمعہ کی صبح خود یوسف گوٹھ اور سعدی ٹاؤن اور سعدی گارڈن کا دورہ کیا اور وہاں پر پانی کی نکاسی کا عمل کم و بیش مکمل کرلیا گیا ہے اور اگر چند گلی محلوں میں پانی موجود ہے تو وہاں عملہ اور مشینری دونوں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں کے بعد شہر کے کچھ نشیبی علاقوں کی گلیوں میں پانی کی شکایات پر متعلقہ اضلاع کے افسران اور ملازمین فوری طور پر ڈی واٹرنگ پمپس سے وہاں کا پانی نکالنے میں دن رات مصروف ہیں۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ حیدرآباد میں صورتحال ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کنٹرول میں تھی تاہم ایک تو وہاں بارش بہت زیادہ ہوئی اور دوسرا سب بڑا مسئلہ حیسکو کی جانب سے بجلی کی بندش تھا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں سیوریج اور نکاسی آب کا مکمل نظام پمپنگ اسٹیشن پر ہے وہاں کراچی کی طرز پر گریوٹی نظام نہیں ہے اور بجلی کی بندش سے پمپنگ اسٹیشن بند ہوگئے اور وہاں جنریٹرز کی موجودگی کے بعد بھی موٹرے اس استدعات سے نہیں چل سکتی تھی اس لئے وہاں پانی کی نکاسی میں مشکلات رہی اور اس کا خمیادہ عوام کو بھگتنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ میں خود دو روز قبل حیدرآباد اور قاسم آباد گیا اور وہاں کے حیسکو کے افسران سے ملاقات کی اور اس وقت بھی 8 فیڈرز اور اس سے منسلک ہمارے پمپنگ اسٹیشن بند تھے۔ انہوں نے کہا کہ حیسکو کسی قسم کا تعاون کرنے کو تیار نہیں ہے اور اس کے باعث ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت نے مزید جنریٹرز اور پانی کی نکاسی کے لئے پمپس فراہم کردئیے ہیں اور انشاء اللہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں تمام علاقوں سے پانی کی نکاسی کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ عید الضحیٰ پر جانوروں کی آلائشوں کو اٹھانے کے حوالے سے تمام ڈی ایم سیز کے میونسپل کمشنرز کی جانب سے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور اس سلسلے میں تمام ڈپٹی کمشنرز بھی ان کی معاونت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ڈی ایم سیز کو کہا ہے کہ وہ یوسی کے چیئرمین اور وائس چیئرمین سے اجلاس کرکے آلائشوں کو ہر یوسی میں ایک گراؤنڈ میں جمع کرکے وہاں سے اس کو ٹھکانے لگانے کی ترتیب بنائیں تاکہ مشکلات کم سے کم ہوں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ گورنگی ندی اور ای بی ایم کاز وے خود انتظامیہ نے کسی بھی قسم کے حادثہ سے بچنے کے لئے ایک اور دو دن کے لئے بند کئے تھے کیونکہ یہ دونوں کازوے ندی کے درمیان موجود ہیں جہاں سے پانی گزر کر سمندر میں جاتا ہے اور جب پانی کا بہاؤ ندی میں بڑھتا ہے تو پانی ان کازوے کے اوپر آجاتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضلع سینٹرل اور کورنگی میں سندھ سولڈ ویسٹ نہیں بلکہ ڈی ایم سیز خود کچڑہ اٹھانے کا کام کرتی ہیں لیکن ہم نے سندھ سولڈ ویسٹ کو پابند کیا ہے کہ وہ دونوں ڈسٹرکٹ کو معاونت فراہم کرے اور صرف 25 روز میں سینٹرل سے 47 ہزار میٹرک ٹن کچڑہ لینڈ فل سائیڈ منتقل کیا گیا اور اگر بارشوں سے قبل ایسا نہ ہوتا تو مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا تھا۔ علی زیدی کے کراچی کو صاف کرنے کے اعلان کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں شاید انہوں نے وزیر اعلیٰ سے رابطہ کیا ہوگا اسی لئے وزیر اعلیٰ سندھ نے مجھے ان سے رابطے کی ہدایات کی تھی، جس پر میں نے انہیں دو بار رابطہ کیا ایک بار ان کا فون اٹینڈ نہیں ہوا جبکہ دوسری بار ان کا فون کسی اور نے اٹینڈ کیا اور بتایا کہ وہ دوسری کمرے میں ہیں اور وہ مجھ سے ان کا رابطہ کرواتے ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے رابطہ نہیں کیا ہے لیکن سندھ حکومت ان کو دستیاب تمام وسائل فراہم کرنے پر تیار ہے اور وہ جو وسائل طلب کریں گے ہم انہیں فراہم کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ آج بھی کے ایم سی کے 95 فیصد اخراجات سندھ حکومت گرانٹ سے پورے کررہی ہے جبکہ کے ایم سی اپنے رسورسیس سے صرف 5 فیصد کام کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز اپنے بجٹ میں اپنے رونیو ٹارگٹ ضرور رکھتی ہیں لیکن وہ اس کا ہدف پورا نہیں کرتی اور مجبورا ً ہمیں تنخواہوں اور دیگر مد میں انہیں گرانٹ دینا پڑتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کچھ لوگوں میں یہ مسئلہ ہے کہ وہ سوچے سمجھے بغیر بات کردیتے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ جب لاہور یا پشاور میں بارش ہوئی تو ہمیں یہاں کوئی صوبائی حکومت نظر نہیں آئی اور کراچی یا دیگر سندھ کے شہروں میں بارش ہوتی ہے تو ضلعی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومت بھی سڑکوں پر ہوتی ہے۔
![]()