تازہ ترین
Home / اہم خبریں / شیخ القرآن و الحدیث مولانا نورالہدی عظیم محدث، فقیہ اور سیاسی رہنما تھے۔ ان کا سانحہ ارتحال امت مسلمہ کا بڑا نقصان ہے۔ قاری محمد عثمان نائب امیر جمعیت علمائے اسلام سندھ

شیخ القرآن و الحدیث مولانا نورالہدی عظیم محدث، فقیہ اور سیاسی رہنما تھے۔ ان کا سانحہ ارتحال امت مسلمہ کا بڑا نقصان ہے۔ قاری محمد عثمان نائب امیر جمعیت علمائے اسلام سندھ

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) جمعیت علمائے اسلام سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان نے کہا ہے کہ شیخ القرآن و الحدیث مولانا نورالہدی عظیم محدث، فقیہ اور سیاسی رہنما تھے۔ ان کا سانحہ ارتحال امت مسلمہ کا بڑا نقصان ہے۔ حضرت شیخ کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان سے کراچی واپسی پر جامعہ ربانیہ قصبہ کالونی میں شیخ الحدیث مولانا نورالہدی کی تعزیت کے موقع پر ان کے صاحبزادوں مولانا ڈاکٹر شمس الہدی، قاری محمود الحق ربانی، مولانا محمد ادریس ربانی، مولانا مفتی غلام اللہ عمر سے گفتگو اور بعد ازاں تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کراچی میں جمعیت علمائے اسلام کے پہلے امیر تھے اور انہوں نے کراچی میں جمعیت علمائے اسلام کے پلیٹ فارم سے ملک میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ تحریک ختم نبوت صلى الله عليه وسلم، تحریک نظام مصطفی اورتحریک بحالی جمہوریت میں ان کا کردار مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ ان تحریکوں کے دوران انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، ایم آر ڈی کے دور میں کراچی کے صدر کی حیثیت سے قائدانہ کردار ادا کیا۔ سیاسی میدان میں مصروفیت کے باوجود مرحوم دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے مصروف عمل رہے۔ دو جامعات کا اہتمام سنبھالنے کے ساتھ ساتھ صحاح ستہ کی عربی زبان میں معرکۃ الآراء شروحات اور دیگر درجنوں کتب تصنیف کیں جو علمی حلقوں کیلئے سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم نے ساری زندگی باطل قوتوں کو للکارا اور حق کی آواز بلند کی۔ مولانا نورالہدی ایک فرد نہیں تحریک کا نام ہے وہ ہر میدان کے شہسوار تھے، انکی دینی ملی اور قومی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ مولانا نورالہدی نے اپنی ساری زندگی اسلام کی سربلندی ملک میں قرآن وسنت کے نظام کے نفاذ عقیدہ ختم نبوت ﷺ،ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کیلئے وقف کر رکھی تھی۔ان کے غم میں آج پورا ملک اور عالم اسلام سوگوار ہے، انکا انتقال علمی حلقوں کیلئے بہت بڑا صدمہ ہے۔ اللہ اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم پاکستان بلکہ عالم اسلام کے دینی حلقوں میں ایک مسلمہ حیثیت رکھتے تھے۔ اس موقع پر مولانا شمس الہدی و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تعزیتی اجتماع میں ڈاکٹر نصیرالدین سواتی، مولانا انوارالحق حقانی، قاری سلطان عمر، مولانا عبدالسلام شاہ، مفتی کفایت اللہ، مولانا عنایت اللہ پراچہ، قاری بخت نذیر، مولانا گل رفیق، مولانا محمد سعید، مفتی محمد اشرف، مولانا عبدالطیف، مولانا احسان اللہ عادل، قاری احسان الرحمن، قاری محمد ایوب ہزاروی، مولانا سمیع الحق سواتی اور دیگر بڑی تعداد میں علماء کرام اور عوام نے شرکت کی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے