چارسدہ (رپورٹ: اصغر خان) تنگی پولیس نے جدید طریقہ تفتیش کی بدولت کامیاب کاروائی کرتے ہوئے تنگی میں ہونے والے لرزہ خیز اندھے قتل کیس میں اصل 6 ملزمان کو 24 گھنٹے کے اندر اندر ٹریس کرکے گرفتار۔ مقتولین کو ان کی گاڑی میں بوچے خوڑ کے قریب گاڑی سمیت جلایا گیا تھا۔ ملزمان نے کا اعتراف جرم۔ مزید تفتیش جاری۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ تنگی پولیس کو اطلاع ملی کہ پوچے خوڑ کے قریب دو افراد کی نعشیں گاڑی میں پڑی ہے جس کو گاڑی سمیت جلایا گیا ہے۔ مصدقہ اطلاع پر تنگی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کیا۔ واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چارسدہ عرفان اللہ خان نے ایس پی انوسٹی گیشن چارسدہ نذیر خان کی سربراہی میں ڈی ایس پی تنگی آیاز محمود خان، ایس ایچ او تھانہ تنگی نورالامین خان اور انوسٹی گیشن آفیسر سردار حسین خان و دیگر افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دے کر ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک سونپ دیا۔ تفتیشی ٹیم نے جدید طریقہ تفتیش سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر اندر تمام 6 ملزمان گل بہادر ولد عبدالغفار ساکن تنگی، مذکر شاہ ولد مشرف شاہ ساکن شاخ شیرپاؤ، عبداللہ ولد فرید اللہ ساکن نہرغاڑہ تنگی، شاہ ریاض ولد سید محمد ساکن کالج کورونہ ابازئی حال جھنڈا صوابی، بسم اللہ ولد ہنر خا ن اور سید محمد ولد اجون جان ساکنان قوال یوسف باباپڑانگ غار تک رسائی حاصل کرتے ہوئے گرفتار کیا۔ ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے تمام حقائق اگل دیئے، ملزمان نے اعتراف کیا کہ مقتولین کے ساتھ ہمارا کرومائیٹ پہاڑ کا تنازعہ پچھلے 12 سال چل رہا تھا جوکہ آج تک حل نہ ہو سکا۔ اس رنجش پر مقتولین کو گاڑی سمیت جلا کر بوچے خوڑ کے قریب پھینک دیا۔ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
![]()