کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے 15 روز میں کراچی سرکلر ریلوے چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک دن سندھ کے ویزے پر پابندی لگ جائیگی، یہ پابندی میڈیکل بنیادوں پر لگے گی کیونکہ دنیا میں اتنے ایڈز کے مریض کہیں سے نہیں نکلے جتنے لاڑکانہ سے نکلے ہیں، لاڑکانہ کے غریب عوام کو ایڈز کے سوا کچھ نہیں ملا، کم سے کم وزیر صحت کو تو استعفیٰ دے دینا چاہیے، بلاول انسداد ایڈز کا اشتہار نکالیں گے تو تعاون کروں گا، سب این آر او مانگ رہے ہیں میں نے کہا تھا کہ انھیں دے دو، عمران خان نے کہا میں این آر او نہیں دوں گا، ملک سے مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ چاہتے ہیں، این آر او کے گندے انڈے گھبرائیں گے ہم نہیں، مئیر کراچی بھائی ہے، ایم کیو ایم سے اچھے تعلقات رہے ہیں، ہمیں کے سی آر کو ہر قیمت پر چلانا ہے، ایم ایل این ون کے لیے جتنے زمین چاہیے وہ حاضر ہے، ایم ایل ون کو اندرون سندھ سے شروع کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وزیر منیشن ریلوے اسٹیشن پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ٹرالی پر بیٹھ کر ریلوے افسران کے ہمراہ کراچی سرکلر روڈ کی بحالی کا بھی جائزہ لیا۔ شیخ رشید نے کہا کہ چیف سیکرٹری سندھ ، وسیم اختر اور کمشنر کے ایم سی کا شکر گزار ہوں، آج چیف جسٹس گلزار صاحب کی بات پر گفتگو کی ہے، فیصلہ کیا ہے 15 دن کے اندر کے سی آر کا کام مکمل کریں گے، چین کی سرمایہ کاری سے کے سی آرمکمل کریں گے، 15 دن میں 45 کلومیٹر کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اب تک 20 کلومیٹر ٹریک بحال کردیا ہے، ٹریک کے دونوں اطراف 50 فٹ تک جگہ خالی کرائیں گے، لوگوں سے کہتے ہیں وہ از خود تجاوزات ختم کردیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ کراچی کا ایک پلاٹ فروخت کردیں تو ریلوے خسارے سے نکل جائے، میری موجودگی میں ایک مرلہ فروخت نہیں ہوگا، بلاول بھٹو کو ٹرین سلیم مانڈوی والا کے کہنے پر دی تھی۔ انھوں نے کہا 43 کلو میٹر میں سے بیس کلو میٹر ٹریک خالی کرالیا ہے، پٹری کے دونوں طرف 50 فٹ تجاوزات خالی کرا رہے ہیں، لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ خود ریلوے کی زمین خالی کر دیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے پولیس کی تنخواہیں پنجاب پولیس کے برابر کرنے کی سفارش کی ہے، میں نے کہا تھا کہ یہ پیسہ لگائیں گے، ریلوے کے پلاٹ لیز پر دیں گے بیچیں گے نہیں، 25 سال بعد کے پی ٹی کی فریٹ ٹرین پنڈی روانہ کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو چار ٹرین دی ہیں ایک ٹرین اور دیکر زیریں سندھ کے ٹریک بھی ٹھیک کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ انگریز 9 ہزار کلومیٹر ریلوے کی پٹڑی چھوڑ کر گیا تھا ، اب یہ ٹریک 7 ہزار کلو میٹر پر آگیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاشی حالات کے حوالے سے گندے کپڑے میڈیا پر نہ دھوئے جائیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لاڑکانہ اور سندھ کے غریب لوگوں کو کیا ملا ہے؟ بچہ ٹیسٹ کرانے جاتا ہے تو اسے بتایا جاتاہے کہ تمہیں ایڈز ہوگیا ہے۔ سندھ کو ایڈستان بنا دیا گیا ہے، صوبائی وزیر صحت کو استعفیٰ دینا چاہیے تھا، یہ بے شرم لوگ ہیں، دنیا میں کوئی اور ہوتا تو مستعفی ہوچکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک سے مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ چاہتے ہیں، گھبرائیں گے وہی لوگ جو این آر او اور نیب کے گندے انڈے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آدھے لوگ پیشیاں بھگت رہے ہیں اور آدھے لوگ ضمانت پر ہیں۔ اپوزیشن والے اپنے ٹریپ میں خود پھنسنے جارہے ہیں۔ میں نے عمران خان سے کہا تھا کہ دفعہ کریں انہیں جانے دیں لیکن عمران خان نے کہا کہ کسی کو بھی این آر او نہیں دوں گا۔ شیخ رشید نے کہا کہ سب این آر او مانگ رہے ہیں میں نے کہا تھا انھیں دے دو، عمران خان نے کہا کہ میں این آر او نہیں دوں گا، ان کو عقل اور سمجھ ہے یہ اپنے ٹریک میں خود پھنسنے والے ہیں، یہ نہ ہوکہ ایسا وقت آجائے کہ ضمانتوں کی بھی اجازت نہ ہو۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری سندھ ممتاز شاہ نے کہا کہ کے سی آر اور سی پیک میں سندھ حکومت کا جو کردار ہے وہ نبھائیں گے۔ مئیر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ سندھ حکومت نااہل ہے، کورٹ کے آرڈرز پر حکومت چل رہی ہے۔ عدالت سے حکم آتے ہیں تو حکومت کام کرتی ہے، از خود ان کی گورننس ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50 فیصد سے زائد کراچی پر تجاوزات بنی ہیں، کچی آبادیوں میں پانی اور بجلی بھی چوری ہوتی ہے، ہماری بھی کوشش ہے کہ سرکلر ریلوے بحال ہو۔ وسیم اختر نے کہا کہ ہم مل کر عدالت کے احکامات پر عمل کریں گے، سپریم کورٹ چاہتی ہے کراچی کیلیے ماسٹر پلان بنایا جائے، وفاقی حکومت ہمارا ساتھ دے رہی ہے، ہم جلد سے جلد کے سی آر کا روٹ تجاوزات سے خالی کرالیں گے۔
![]()