نوشہرو فیروز (رپورٹ: امداداللہ ملک) محراب پور کے قریب ٹنڈو میرعلی میں پيروسن پولیس نے چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کردیا 12 پولیس اہلکاروں نےعبدالرحمان آرائیں کے گھر میں بغیر کسی قانونی جواز کے خواتین کو زد و کوب کیا اور باپ بیٹی کو حبس بے جا میں رکھا۔ تفصیلات کے مطابق پیروسن تھانے کے انچارج نے بنا کسی قانونی جواز اور بغیر لیڈیز پولیس کی ٹنڈو میر علی میں محنت کش عبدالرحمن آرائیں کے گھر پر داھاوا بول دیا گھر میں موجود خواتین کیساتھ دست درازی کرتے ہوئے ان انھیں زد و کوب کیا اور گندی گالیاں دیں گھر والوں کے پوچھنے پر کہ آپ نے بغیر کسی خواتین پولیس اور بنا کسی جواز اور قانون کے گھر کیسے داخل ہوئے ہیں جس ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ہم خود قانون ہیں پولیس نے محنت کش عبدالرحمن اور ان کی نوجوان بیٹی کو تھانہ میں لے گئی اور حبس بے جا رکھ کر ہم سے بھاری رشوت طلب کرتی رہی جس پر آرائیں برادری کی خواتین و مردوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا مظایرین نے ہاتھوں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر پولیس کیخلاف نعرے درج تھے مظاہرین نے اعلیٰ حکام، آئی جی سندھ، وزیراعلیٰ سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے واقعے میں ملوث ایس ایچ او صدورو خان لاشاری کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا اور مزکورہ ایس ایچ او سے تحفظ دلانے کی اپیل کی ہے کیونکہ مزکورہ ایس ایچ او نے سنگین مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے۔
![]()