کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ڈائریکٹر جنرل نادرا سندھ میرعجم خان درانی کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی کے پاس اب پاکستانی شناختی کارڈ نہیں ، صرف اسٹامپ پیپر جمع کرانے پر شناختی کارڈ جاری کرنا- نادرا کے خلاف پروپیگنڈہ ہے، نادرا صرف پاکستانی شہریوں کو ہی شناختی کارڈ جاری کر رہا ہے۔ ڈی جی نادرا سندھ میر عجم خان درانی کا کہنا تھا غیر ملکیوں کے شناختی بنانے کا نادرا کے خلاف پروپیگینڈا کیا جا رہا ہے ، نادراکسی غیر ملکی کا نہیں صرف پاکستانی شہریوں کے ہی شناختی کارڈ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اوراسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے اور وزارت داخلہ کی پالیسی کے تحت نادرا ہر پاکستانی شہری کے شناختی کارڈ جاری کر رہا ہے، صرف مشکوک افراد کے ڈیٹا فارم تحقیقاتی اداروں کو تصدیق کے لیے بھیجے جاتے ہیں- انہوں نے بتایا کہ دس کروڑ سے زائد افرد شناختی کارڈ کی تصدیق کی تھی جس میں 58 ہزار غیر ملکیوں کے شناختی کارڈ منسوخ کر دیے گے تھے۔- میر عجم خان درانی نے کہا کہ اگر کوئی غیر ملکی نادرا کے پاس شناختی کارڈ بنانے کے لئے آتا ہے تواسکو اپنے والدین جو کہ نادرا کے ساتھ رجسٹرد نہیں ہوتا تو اس کو وزارت داخلہ کے نوٹیفیکیشن کے تحت 1979سے قبل کی کوئی بھی دستاویز پیش کرنا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1971 سے پاکستان میں موجود بنگالیو ں کے لیئے صرف اسٹامپ پیپر جمع کرانے پر نادرا شناختی کارڈ جاری نہیں کرتا۔ انہوں نے بتایا کہ غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کے لئے نادرا کام کر رہا ہے۔ نارا کے پاس رجسٹرڈ کوئی بھی غیر ملکی اگر نادرا سے شناختی کارڈ بنانے کی کوشیش کرے گا تو سسٹم کارڈ بلاک کر دے گا۔ نارا کے پاس رجسٹرڈ غیر ملکی کے فنگر پرنٹس کو نادرا تصدیق کے لئے نادرا کے ڈیٹا سے بھی چیک کرتا ہے-
![]()