میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) میرپورخاص سول اسپتال میں نومولد بچے کی جنس تبدیل کرنے کا معاملہ، انکوائری رپورٹ مکمل ورثاء کا احتجاج، 25 تاریخ کو بیٹا پیدا ہوا اسپتال والوں نے بیٹے کو تبدیل کرکے بیٹی دے دی، متاثرین والد عبداللہ پٹھان اور ورثاء کا احتجاج، انکوائری کمیٹی قبول نہیں انصاف کیا جائے مظاہرین، سول سرجن سول اسپتال میرپورخاص کی جانب سے بنائی گئی انکوائری کمیٹی نے انکوائری مکمل کرلی انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچہ تبدیل نہیں ہوا غلط فہمی کی بنیاد پر گائنی وارڈ کی اسٹاف نرس زوبیہ، ماسی اور ایک آؤٹ سائڈر پرائیوٹ نرس نے والدین سے پیسے (خرچی) لینے کے چکر میں جھوٹ بولا بیٹی کو بیٹا کہا اور مٹھائی مانگی، بچی پیدا ہوئی ہے آپریشن تھیٹر میں پیدا کرانے والے آلے ویکیوم کا نشان ابھی تک بچی کے سر پر موجود یے، بچوں کے وارڈ میں ہمیں بیٹی ہی ملی تھی، شفٹ انچارج ڈاکٹر سارا اور اسٹاف نرس سندھو ماروی کا انکوائری کمیٹی میں بیان، بچی کی ماں کا الٹرا ساؤنڈ کرنے والے ڈاکٹر افتخار کی رپورٹ میں بیٹی لکھا ہوا تھا انکوائری کمیٹی، سول سرجن ڈاکٹر اکرم سلطان کا موقف ہے کہ بیٹا نہیں بیٹی ہی پیدا ہوئی تھی والدین چاہیں تو بچی اور ماں باب کا ڈی این اے ٹیسٹ کروالیں ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد مزید ابہام دور ہوجائے گا اگر ڈی این اے میں ماں بیٹی کا رشتہ ظاہر نہیں ہوتا تو ذمہ داری قبول کرینگے، سول اسپتال میں آئندہ زچگی کے فوری بعد ماں اور پیدا ہونے والے بچے کا مارک آف آیڈنٹفکیشن لگایا جائے گا، چند پیسوں کی خاطر جھوٹ بولنے اور غلط فہمی پیدا کرنے والے عملے کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جارہی ہے، ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر اکرم سلطان کا موقف۔
![]()