کراچی (نوپ نیوز) عالمی شہرت یافتہ فنکارہ شازیہ خشک سندھ فنکار ویلفیئر ٹرسٹ کے مرکزی چیئرمین حمید بھٹو اورپروفیسرابراہیم خشک نے کہا ہے کہ 22 مارچ کو دریاؤں کے میٹھے پانی کے عالمی دن کے موقع پرسندھو دریا کو زندہ انسان والی حیثیت دلانے کیلئے سندھ اسمبلی میں قانون سازی کرانے کیلئے آواز بلند کرنے کے سلسلے میں سول سوسائٹی کی اہم شخصیات کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کریں گے اور پریس کلب کے باہردریاؤں اور میٹھے پانی کی اہمیت سے متعلق آگاہی دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک انسان کو زہر دیا جاتا ہے تو قتل کا مقدمہ درج ہوتا ہے اس میں دہشتگردی کی دفعات کو لاگو کیا جاتا ہے لیکن سندہو دریا کے زندگی بخش پانی میں گٹر اور کارخانوں کے فضلات والے زہریلے مادہ نیکال کرکے انسانوں سمیت اجمتاعی طور پر ساری مخلوق کو قتل کیا جا رہا ہے، جس کو روکنے کیلئے قانون سازی کی جائے کہ دریا کی حیثیت ایک زندہ سانس لینے والے انسان جیسی ہے۔ اس میں زہر چھوڑنا اتنا ہی جرم اور دہشتگردی ہے جتنا کئی انسانوں کو اجتماعی طورپر زہر دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا سادہ سا پر امن مطالبہ ہے ۔ کہ دریاؤں کے میٹھے پانی کیلئے قانون سازی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس موقع پرسندہو دریا کے درد اور دہائی پر مبنی گیت شازیہ خشک گائیں گی جبکہ ملک کے دیگر نامور فنکار، شاعر،سول سوسائٹی کی شخصیات اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ کراچی کی سول سوسائٹی سمیت فنکاروں، شاعروں، ادیبوں کے ساتھ 22 مارچ 2018 ء کو دوپہر 2 بجے کراچی پریس کلب کے باہر جمع ہوکر دریاؤں کے میٹھے پانی کے تحفظ کیلئے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے گا ، اس کے ساتھ ساتھ پریس کلب میں پریس کانفرنس کی جائے گی۔
