خیرپور (نوپ نیوز) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ تحریک پاکستان کے کارکنان کی قیام پاکستان کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں بھیج پیر جٹا کارکن تحریک پاکستان حضرت مرشد شاھین گورایا ؒ مرشدی قائد اعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ کے فرمودات کی ترویج و اشاعت کے لئے کوئی دققیہ فروگزاشت نہیں کرتے تھے آپ ؒ ساری زندگی نظریہ پاکستان کے فروغ کے لئے جدوجہد کرتے رہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرشدی گورایاؒ میموریل کمیٹی پاکستان کے زیر اہتمام اتوار کے روزخیرپور کے سچل آڈیٹوریم میں تحریک پاکستان کے کارکن بابائے خیرپور صحافی ، ادیب، دانشوربھیج پیرجٹاپنجم پیر ومرشد شاھین گورایاؒ نقشبندی مرشدی کے 6 عرس مبارک کے حوالے سے قومی ریفرنس کے انعقاد پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا جس کی صدارت بابائے خیرپور کے فرزند صاحبزادہ احمد عمران نقشبندی مرشدی نے کی جبکہ مہمان خصوصی برزگ مسلم لیگی رہنما بیگم خورشید افغان اورشجاعت احمد صدیقی تھے جبکہ مقررین میں سینئر صحافی محمد اطہر صدیقی ، امتیاز مہیسر ، ڈاکٹر رستم لاڑک ، سعید خان بلیدی، ندیم کمال ، افضل چھجڑو، زاہد منگی، عامر ضیاء جسٹس آف پیس ، صوفی اسحاق سومرو ، جمیل احمد صدیقی اور دیگر شامل تھے صدرمملکت نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ موجودہ پر آشوب دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو پاکستان کے قیام کے لئے قربانیاں دینے والوں کی قربانیوں سے آگاہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان ہی وطن کی بقاء سلامتی استحکام اور جمہوریت کی کامیابی کے لئے ناگزیر ہے انہوں نے کہا کہ نظریہ پاکستان اور قائد اعظم و علامہ اقبال کے افکار پر عمل درآمد کرے ہی وطن عزیز کو فرقہ واریت ، اور صوبائی عصبیت سے نجات اور دہشتگردی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے قومی ریفرنس کے انعقاد کے حوالے سے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بابائے خیرپور کارکن تحریک پاکستان بھیج پیر جٹا حضرت مرشد شاھین گورایاؒ مرشدی بالائی سندھ کی صحافت کے میدان کے مرد میدان اور فلاح انسانیت کے علمبردار تھے انہوں نے اپنی تمام فکری اور ذہنی صلاحتیں سندھ کے عوام کی رہنمائی کے لئے قرطاس و قلم ہی کے ذریعے وقف کردیں تھیں اور یہ کار خیر ان کی زندگی کے آخر تک جاری رہا قومی ریفرنس کے لئے دیئے گئے اپنے پیغام میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین سابق صدر مملکت رفیق تاڑر کہا کہ بھیج پیر جٹا بابائے خیرپور مرشد شاھین گورایاؒ مرشدی نے ہمیشہ حق و صداقت کی آواز بلند کی اور مسلم اسٹوڈینٹ فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ لیا اور بعد ازاں تکمیل پاکستان کے لئے تا عبد نظریہ پاکستان کا پر چار کرتے رہے ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک پاکستان کے ایسے کارکنان کی قربانیوں سے قوم کو روشناس کرانے کے لئے ملکی سطح پر کام کیا جائے نظریہ پاکستان ٹرسٹ اس سلسلے میں بھر پور کردار ادا کررہا ہے اور گم نام تحریک پاکستان کے کارکنان کو تلاش کرکے ان کی خدمات کے حوالے سے انہیں خراج عقیدت پیش کرتا رہتا ہے جماعت اسلامی کے نائب امیر اسد اللہ بھٹو نے اپنے پیغام میں کہا کہ محترم شاھین گورایا نے صحافت میں قدم رکھا وہ صحافت بلند پایا شخصیات کے ہم اثر بھی رہے جدوجہد آزادی میں بھی سرگرم رہے وہ قیام پاکستان کے بعد بھی صحافت سے وابستہ رہے اور زبان قلم سے جہاد جاری رکھا ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیگم خورشید افغان نے کہا کہ بھیج پیر جٹا پیر و مرشدشاھین گورایا نقشبندی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں تھی وہ داعی اتحاد امت اور بین المذہب و بین المسالک کے علمبردار تھے انہوں نے پھول باغ خیرپور میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کو قائد عوام کا خطاب دیا جو ہمیشہ کے لئے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نام نامی کا حصہ بن گیا انہوں نے کہاکہ مرشدی باباجی ؒ 14 زبانوں پر عبور رکھتے تھے وہ شعلہ بیاں مقرر اور ماہر فلکیات تھے مرشدی باباجی ؒ نے تحریک آزادی پاکستان میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا اور حضرت علامہ المشرقی کے ساتھ خاکسار تحریک میں بھی بھر پور کردار ادا کیا شجاعت احمد صدیقی نے کہا کہ مرشدی شاھین گورایاؒ کی خیرپور کے عوام کے لئے خدمات تاریخ کا سنہری باب ہیں وہ خیرپور کا سرمایہ تھے اطہرصدیقی نے کہا کہ بابا شاھین گورایاؒ نے ساری زندگی سادگی انکساری صبر وقناعت سے بسر کی وہ کنگ میکر تھے بڑے بڑے بادشاہ ان کے پاس آتے تھے مگر انہوں کبھی حق و صداقت کا دامن نہیں چھوڑا ڈاکٹر رستم لاڑک نے کہا کہ بھیج پیر جٹا مرشدی شاھین گورایاؒ نے ساری زندگی دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کررکھی تھی آپ کا سینہ علوم ظاہری اور علوم باطنی سے معمور تھا جس کی روشنی پھیل کر دلوں کو منور کرتی تھی صوفی اسحاق سومرو نے کہا کہ بھیج پیر جٹا مرشدی گورایا ؒ کی کوششوں اور جدوجہد نے نتیجے میں خیرپور کو ریڈیوپاکستان اور شاہ لطیف یونیورسٹی کیمپس ملا انہوں نے ساری زندگی بالائی سندھ کے عوام کی خدمت میں صرف کرد ی قومی ریفرنس میں متفقہ طور پر یہ قرار دادیں پاس کی گئی کہ اسلام آباد میں تحریک پاکستان کے لئے قربانیاں پیش کرنے والوں کی یادگار تعمیر کی جائے کیونکہ ایسی یادگار کی تعمیر ان عظیم ہستیوں کا حق ہے بابائے خیرپور کارکن تحریک پاکستان بھیج پیر جٹا پیر و مرشد شاھین گورایاؒ کے افکار سے نوجوان نسل کو آگاہی کیلئے شاہ لطیف یونیورسٹی خیرپور میں مرشدی گورایا چیئرقائم کی جائے جبکہ ان کی رہائش گاہ کے روڈ کو مرشدی گورایاؒ روڈ اور پھول باغ خیرپور جہاں انہوں نے 1962ء کو بھٹوکو قائد عوام کا خطاب دیا تھا کو بھی مرشدی گورایاؒ پھول باغ کے نام سے منسوب کیا جائے تقریب میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ’’بابائے خیرپور‘‘ ایوراڈ دیئے گئے۔
![]()