کشمیر جوکہ پاکستان کا دل تصور کیا جاتا ہے آج بھی بھارت کے جارحانہ مظالم کا شکار ہے کیونکہ ہم آج تک کشمیر کو بھارتی مظالم سے دوچار دیکھ رہے ہیں جہاں پر بھارتی افواج انسانیت سوز مظالم ڈھا رہے ہیں جہاں نہتے کشمیریوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے جہاں پر معصوم نہتے کشمیریوں کو پیلٹ گن سے آنکھوں کی بصارت سے محروم کر رہا ہے جو زخم ہمارے کشمیری بھائیوں کو لگتے ہیں وہ زخم ہمارے دلوں پر لگتے ہیں- کشمیر ڈے منانے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں بلکہ یہ دن ہمیں اس بات کی بھی نشاندہی کرواتا ہے کہ ہمیں آزادی تھالیوں میں رکھ کر نہیں ملی بلکہ اس آزادی کے لئے ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی قیمتی جانوں کو نچھاور کر کے آزادی دلوائی تھی لیہذا اگر ہم آج کشمیر کو حقیقی معنوں میں آزاد کروانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا من و عن بلکہ تن من دھن تک قربان کرنا ہوگا- آج کے دن کے حوالے ایک نظم تحریر کی ہے جو دل سے نکل کر دلوں پر اثر کر جائے گی- ایک دن صبح سویرے آئی تھی جب باد صبا لہو کی مہک سی تھی ہر سمیت ہر گو کہنے لگا یہ دل میرا کس کا لہو ہے یہ کون مرا ایک شے سی پھر آئی نظر ڈر کر جو دیکھا میں نے ادھر کہنے لگی وہ برملا روح ہوں میں تیرے کشمیر کی ہوگئی ہوں جو، تجھ سے جدا برادر جو تیرا مر گیا تجھ کو پتہ بھی نہ چلا ہندو ہے تیری گھات میں مضبوط ہو تو ایمان میں فتح ہوگی مقدر تیرا آئے گی تجھ کو بھی صدا نصر من الله ، نصر من الله تحریر: ذیشان حسین