کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) شہید محترمہ بینظر میڈیکل کالج لیاری کے گائناکالوجی ڈیپارٹمنٹ کی سات ڈاکٹروں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوۓ کہا کہ شعبے کی سربراہ اور پرنسپل ڈاکٹر انجم رحمٰن کو معطل کرکے کالج میں گزشتہ 5 برس سے جاری بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرائی جائیں- کراچی کلب میں پریس کانفرنس سے خطب کرتے ہوۓ ڈاکٹر روزینہ یاسر، ڈاکٹر انیلا امجد، ڈاکٹر شائستہ ناز، ڈاکٹر ممتو، ڈاکٹر عائشہ حق، ڈاکٹر شہلہ اور ڈاکٹر رانا حسین نے بتایا کہ لیاری گنگ وار کے عروج کے دور میں پروفیسر انجم رحمٰن نے نہ صرف لیاری گنگ وار کے افراد بھرتی کیے بلکہ اپنے دو بھائی، تین بہنیں اور والد کو بھی ملازمت دی ہے اور اب بھی گنگ وار سے وابستہ افراد کے ذریعے ہمیں ہراساں کروا رہی ہیں اور ان کا دباؤ ہے کہ ہم ان الزامات سے دست بردار ہوجائیں- اس وقت بھی فیکلٹی ممبران کو ہراساں کرکے من پسند فیصلے کراۓ جا رہے ہیں انہوں نے اپنے بھائیوں فہد اور عامر کو اسٹینوگرافر اور کمپیوٹر آپریٹر اور تین بہنوں ڈاکٹر سحر فاطمہ (ایسوسی ایٹ پروفیسر) حبیبہ اسٹوڈنٹ ایگزیکٹو، امبرین فنانس ڈائریکٹر کو سفارش پر جاب دی ہے جس کی تحقیقات ضروری ہیں- ڈاکٹروں نے بتایا 3 اکتوبر 2018 کو عوامی شکایات پر انجم رحمٰن کو پرنسپل کے منصب سے ہٹایا کر محکمہ صحت میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا اور ان کے خلاف انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی- لیکن اسٹے آرڈر لے کر دوبارہ واپس آگئی ہے- اس دوران جن ڈاکٹروں یا عملے نے ان کا ساتھ نہیں دیا ان کے خلاف واپس آتے ہی انجم رحمٰن نے انتقامی کاروائی شروع کردی ہے- ڈاکٹروں نے بتایا کہ انجم رحمٰن کی بہن سحر فاطمہ دبئی کے لطیفہ اسپتال اور شہید بینظر بھٹو کالج میں بیک وقت کام کرتی ہیں اور اسی دوران وہ اسسٹینٹ پروفیسر سے ترقی کرکے ایسوسی ایٹ پروفیسر بن چکی ہیں- ایک ہی خاندان کو خلاف میرٹ 6، 6 ملازمتوں اور درجنوں بے قاعدگیوں اور ہیر پھیر کی تحقیقات کروائی جائیں-
![]()