تازہ ترین
Home / اہم خبریں / ہاکی فیڈریشن میں تبدیلی: سیدہ شہلا رضا کی سخت تنقید، شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

ہاکی فیڈریشن میں تبدیلی: سیدہ شہلا رضا کی سخت تنقید، شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ممبر قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ (آئی پی سی) و کھیل کی رکن سیدہ شہلا رضا نے پاکستان ہاکی فیڈریشن میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق عہدیداروں پر سنگین الزامات عائد کیے اور وزیراعظم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

پریس کانفرنس میں اولمپئن سمیع اللہ، کلیم اللہ، افتخار سید، حنیف خان، ناصر علی، ایاز محمود، وسیم فیروز اور سابق سیکریٹری حیدر حسین بھی موجود تھے۔

سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ سابق صدر طارق بگٹی اور سابق سیکریٹری رانا مجاہد علی قومی کھیل ہاکی اور ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے۔ ان کے مطابق دونوں کا استعفیٰ وزیراعظم کی ہدایت پر ہوا جبکہ طارق بگٹی شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہباز سینئر، رانا مجاہد اور آصف باجوہ نے ہاکی کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر من پسند افراد کے ذریعے انتخابات کرانا چاہتے تھے اور بعض عہدیداروں نے جیت کے لیے ملک بھر میں متوازی ایسوسی ایشنز قائم کیں۔
سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ آسٹریلیا میں قومی ٹیم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ پہلا نہیں تھا، اس سے قبل عمان میں بھی ٹیم کو نامناسب حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم گزشتہ دو برس کے دوران ہاکی فیڈریشن اور ٹیم کے ہمراہ بیرون ملک جانے والے تمام افراد کا ریکارڈ منظر عام پر لائیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ آڈٹ کے 113 پیراز میں مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی اور بعض افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کیے گئے، تاہم بعد ازاں انہی افراد میں سے ایک کو دوبارہ عہدہ دے دیا گیا۔

سیدہ شہلا رضا نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر خالد محمود کو بھی ہاکی فیڈریشن کی زبوں حالی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں اعلیٰ سطحی احتساب ضروری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے متنازع نمائندگی کو کیسے تسلیم کیا۔

انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ سابق عہدیداروں کے خلاف شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں ملک سے باہر جانے سے روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی عہدے کی امیدوار نہیں بلکہ صرف قومی کھیل کی بحالی اور شفاف نظام کی خواہاں ہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ وزیراعظم روزمرہ امور کی انجام دہی کے لیے ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔ ان کے مطابق ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے متعلق حیدر حسین کا کیس تاحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔

اس موقع پر اولمپئن سمیع اللہ نے کہا کہ سابق عہدیداروں کا فیڈریشن سے الگ ہونا ہاکی کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پیشہ ور اور دیانتدار مینجمنٹ سامنے آئی تو تمام سابق کھلاڑی ہاکی کی بہتری کے لیے متحد ہوکر کام کریں گے کیونکہ ان کا مقصد عہدہ نہیں بلکہ قومی کھیل کی ترقی ہے۔

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے