کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے سینئر صحافی اور کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن (سی آر اے) کے سابق صدر کاشف ہاشمی پر ناظم آباد تھانے میں مبینہ پولیس تشدد، بدسلوکی اور ان کا موبائل فون توڑنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آزادیٔ صحافت اور صحافیوں کے پیشہ ورانہ وقار پر حملہ قرار دیا ہے یونین کے صدر نصراللہ چوہدری، سیکرٹری ریحان خان چشتی اور مجلس عاملہ نے کہا کہ کاشف ہاشمی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں تھانے میں موجود تھے، جہاں مبینہ طور پر انہیں تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا واقعہ ایس ایچ او شارع نورجہاں افتخار تنولی کی موجودگی میں پیش آیا جس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
کے یو جے دستور کے عہدیداران نے کہا کہ پولیس اسٹیشن کے اندر ایک سینئر صحافی کے ساتھ مبینہ تشدد اور تضحیک ناقابلِ قبول ہے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو قانون کا پابند ہونا چاہیے اور کسی صحافی کو اس کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنے یا ہراساں کرنے کا کوئی جواز نہیں انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو تشدد اور دباؤ سے محفوظ رکھنا آزادیٔ صحافت، اظہارِ رائے اور عوام کے حقِ معلومات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے یونین نے آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں کو معطل کرکے ان کے خلاف محکمانہ و قانونی کارروائی کی جائے اور ایس ایچ او شارع نورجہاں افتخار تنولی کے کردار اور مبینہ غفلت کا بھی جائزہ لیا جائے۔ یونین نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو صحافی برادری کی مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔