کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کچی آبادی اتھارٹی کے چیئرمین انجینئر عثمان نے ایم کیو ایم ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں 1447 اور صرف کراچی میں 582 کچی آبادیاں موجود ہیں، جہاں 55 لاکھ سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں، لیکن تاحال ایک بھی کچی آبادی بہتر نہیں بنائی جا سکی۔
انجینئر عثمان نے بتایا کہ ضلع غربی کے گوٹھوں کے نوٹیفکیشن اور ڈی نوٹیفکیشن کے معاملے پر کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بورڈ آف ریونیو اور کچی آبادی اتھارٹی میں NOC کینسل کے مسئلے پر چیف سیکریٹری کو انکوائری بھیج دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے 2016 میں 100 کچی آبادیوں کو ماڈل ٹاؤن بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک ایک بھی ماڈل ٹاؤن وجود میں نہیں آ سکا۔
چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ کچی آبادی محکمے میں اینٹی انکروچمنٹ ڈیپارٹمنٹ ہی موجود نہیں، جبکہ بورڈ آف ریونیو اور کچی آبادی محکمے کے درمیان کوآرڈینیشن کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق بارش کے بعد پورا شہر کچی آبادی کا منظر پیش کرتا ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔