کراچی، (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں نجی شعبے کی نمایاں انشورنس ک۔مپنی جوبلی لائف انشورنس نے کشف فاؤنڈیشن اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے اشتراک سے “خوشحال مستقبل تکافل (KMT)” پلان متعارف کرا دیا ہے۔ یہ جدید مائیکروسیونگ اور تحفظ پر مبنی منصوبہ بالخصوص سہولیات سے محروم علاقوں کی خواتین کے مالی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
یہ شراکت داری لاہور میں کشف فاؤنڈیشن کے ہیڈ آفس میں یو این ڈی پی کے نمائندوں کی موجودگی میں طے پائی، جسے مالی شمولیت اور خواتین کے لیے مؤثر مالی تحفظ کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
“خوشحال مستقبل تکافل” پلان کو کشف فاؤنڈیشن سے وابستہ قرض لینے والی خواتین کے لیے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ ایک سالانہ قابلِ تجدید انڈوومنٹ تکافل پلان ہے، جو مالی تحفظ اور طویل مدتی بچت کو یکجا کرتا ہے۔ یہ پلان شرعی اصولوں کے مطابق وکالہ-وقف تکافل ماڈل کے تحت کام کرتا ہے، جس کے تحت ایک جانب کسی بھی ہنگامی صورتحال میں خاندان کو مالی سہارا فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب خواتین کو منظم بچت کے ذریعے خودمختار بنانے میں مدد ملتی ہے۔
اس موقع پر جوبلی لائف انشورنس کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او جاوید احمد کا کہنا تھا کہ ادارہ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مالی تحفظ ہر فرد تک پہنچنا چاہیے، خصوصاً ان خواتین تک جو گھریلو استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق کشف فاؤنڈیشن کے ساتھ یہ شراکت داری خواتین کو بااختیار بنانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
کشف فاؤنڈیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر روشانہ ظفر نے کہا کہ جو خواتین اپنے مستقبل میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، وہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے خاندان کی زندگی میں بھی مثبت تبدیلی لاتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ تکافل منصوبہ خواتین کو طویل المدتی مالی تحفظ فراہم کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) پاکستان کے نمائندے نے بھی اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک میں خواتین کے لیے مالی تحفظ کے خلا کو کم کرنا نہایت ضروری ہے، اور اس طرح کی شراکت داریاں جدید اور آسان مالی سہولیات تک رسائی کو ممکن بناتی ہیں۔
یہ اقدام کشف فاؤنڈیشن کی اس کامیابی پر مبنی ہے جس کے تحت اسے یو این ڈی پی پاکستان کے انشورنس انوویشن چیلنج کا فاتح قرار دیا گیا تھا، جبکہ اس منصوبے کو یو این ڈی پی کے انشورنس اینڈ رسک فنانس فیسلٹی (IRFF) کے تحت معاونت بھی حاصل رہی۔
ماہرین کے مطابق یہ ماڈل پاکستان میں صنفی بنیادوں پر حساس مالی تحفظ اور جامع معاشی ترقی کے فروغ کے لیے ایک قابلِ توسیع مثال بن سکتا ہے۔