کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز ”عورت اور پاکستانی سماج“ کے عنوان سے سیشن منعقد کیا گیا جس میں عارفہ سیدہ زہرا، نور الہدیٰ شاہ، انیس ہارون اور وسعت اللہ خان نے گفتگو کی جبکہ نظامت کے فرائض نصرت حارث نے ادا کیے، اس موقع پر نورالہدیٰ شاہ نے کہا کہ عورت جب تک سپورٹ کے گن گاتی رہے گی تب تک وہ سپورٹ کی محتاج ہے، آزادی میں سپورٹ شامل نہیں ہوتی، انہوں نے کہا کہ جہاں تک پاکستانی سماج کا تعلق ہے یہ ایک پچھتر سال سے یرغمال سماج ہے جس کا چہرہ آ پ کے سامنے ہے، عورت اس کا حصہ ہے جس ملک، قوم، ریاست بنیاد فتوے سازی پر ہو تو مسلم سماج میں فتوے والی سوسائٹی کا پہلا شکار عورت ہوتی ہے، اور ہر فتوے کا تعلق وہ اس گناہ گار عورت اور اس کے کردار و تشدد سے ہے اس ملک میں اس کا اختتام نہیں ہے، اس وقت ہم اس کے درمیان میں کھڑے ہیں آگے بہت سا منظر دیکھنا ابھی باقی ہے، عارفہ سیدہ زہرا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم اور ریاست کو اب تک پتا ہی نہیں چلا کہ پاکستانی سماج اور عورت کا کیا کردار ہے، لیکن ہم نے اپنے لیے درجے خود رکھے ہیں ایک مزاجی خدا ہوگئے ایک ان کی لونڈیاں ہوگئیں، زندگی میں جو برابری کا تصور ہے وہ کہیں نظر نہیں آتا، عورت کو آج بھی اپنے کھیتوں سے واپس بلا لیجیے ایک ہفتے کے بعد بھوکا رہنا پڑے گا، ہم اینٹیں، ریت، مٹی دھونے والی عورت کے بنیادی کام کو ہم معیشت کی ترقی نہیں سمجھتے، انہوں نے کہا کہ جو مرد موزوں کے رنگوں میں برابری نہ ڈھونڈ سکے وہ انسانی سطح کے شعور پر کیسے برابر کرسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ معاش خود کوئی چیز نہیں جس کی قیمت وصول ہوجائے وہ چیز بے قیمت ہوجاتی ہے، عورتیں وہ کام کرتی ہیں جن کی قیمتیں ادا نہیں کی جاسکتیں، انیس ہارون نے کہا کہ امریکی صدر نے کہا تھا کہ اگر آپ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ معاشرہ کتنا مہذب ہے جس میں مرد اور عورت دونوں ہوتے ہیں تو آپ یہ دیکھیں کے اس سماج نے عورت کو کیا حیثیت دی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف عورت کا نہیں بلکہ مردوں کا بھی ہے، ہمیں مردوں سے بھی پوچھنا چاہیے کہ آج جو اپنے سماج میں عورت کو حیثیت دی ہے تو کیا آپ ایک مہذب معاشرہ کہلانے مستحق ہیں یا نہیں، انہوں نے کہا کہ صرف عورت ہی یرغمال نہیں اس میں مرد بھی شامل ہیں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے گھر کے چاروں طرف آگ جل رہی ہے لیکن میں نے اپنے گھر پانی کا فوارہ بنالیا ہے تو میں محفوظ ہوں یہ غلط سوچ ہے، انہوں نے کہا کہ جب تک ہم ایک ایسا معاشرہ نہیں بناتے جس میں مرد اور عورت دونوں محفوظ اور برابر ہوں دونوں مل کر زندگی کے فیصلے کریں گے اس وقت میں سمجھتی ہوں کہ یہ مہذب معاشرہ ہے اور نہ ہی محفوظ۔ وسعت اللہ خان نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ میں عورت نہیں ہوں، میں تصور نہیں کرسکتا کہ عورت ہوتا تو 9 مہینے کیسے بچے کو پیٹ میں رکھتا اور جب وہ پیدا ہوجاتا تو اس کی پرورش کے لیے جو صبر، ضبط، بے سکونی کی عادت اور چوبیس گھنٹے کی مشقت میرے بس کا کام نہیں تھا، انہوں نے کہا کہ میں جب دو دن بعد گھر واپس آتا ہوں تو سکون مل جاتا ہے لیکن میری بہن تو ہمیشہ کے لیے گھر چھوڑ دیتی ہے اس کا کیا ہوتا ہوگا، انہوں نے کہا کہ پھر مجھے بیوی بھی بننا پڑتا نہ جسم میرا ہوتا نہ روح میری ہوتی اور اگر میں دیہات میں پیدا ہوجاتی تو فصل کی بھی ذمہ داری، آنکھیں جو مجھے دیکھتی ہیں ان کی بھی ذمہ داری، گھر کے اندر میرے بیٹوں، شوہر، باپ اور میرے بھائیوں سے جو کھانا بچ جاتا شاید وہ میری قسمت میں ہوتا پھر بھی میں کٹہرے میں کھڑا ہوتا تو نے یہ نہیں کیا وہ نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ فقیر باہر فقیر ہوتا ہے گھر میں وہ بھی آقا ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ میری حسرت ہے کہ اسلام میں عورت کے جو حقوق ہیں ان میں سے بیوی ہر شے کا معاوضہ طلب کرنے کی شرعاً مکلف ہے، اس کی کوکھ سے جنم لیے جانے والا بچہ اس کو دودھ پلانے، گھر میں کھانے پکانے، روٹی بنانے، بچوں کی صفائی اور ان کے خیال رکھنے کا الگ الگ معاوضہ طلب کرسکتی ہے لیکن میں نے کبھی کسی سے اس کے بارے میں بیان کرتے ہوئے نہیں سنا اور نہ ہمیں اس سے کوئی دلچسپی ہے، ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہمیں اس دو وقت کی روٹی دے کر اس پر بڑا احسان کررہے ہیں اگر عورت ہم سے ہر چیز کا معاوضہ طلب کرے تو ہم ہماری چاہے کتنی ہی اچھی تنخواہ ہو میں سڑک پر کھڑا ہوں گا یہ عورت کا ہم پر احسان اور مہربانی ہے وہ ہم سے اس کا دعویٰ نہیں کرتی۔انہوں نے کہاکہ عورت کو محبت کی خاص ضرورت نہیں ہوتی آپ اس کی عزت کرنا سیکھ لیں محبت خود بخود آجائے گی۔