کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) معروف مصنفہ نورالہدی شاہ نے کہا ہے کہ سندھی ادب میں شاہ لطیف اور سچل سرمست کے دور سے مزاحمت جاری ہے سندھی ادب میں ریاستی مداخلت کی کوشش ہر دور میں ہوتی رہی لیکن سندھ کی ہمیشہ یہ مشترکہ رائے رہی کہ کسی کو بھی سندھی ادب میں مداخلت کے لئے جگہ نہیں دی جائے گی انہوں نے کہا کہ سندھ میں سندھی زبان کے ساتھ اردو زبان بھی ہماری مادری زبان ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں چودھویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری دن“ سندھی ادب کے پچہتر سال” کے موضوع پر منعقدہ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیشن سے غلام اکبر لغاری۔ ڈاکٹر سحر گل۔ ممتاز بخاری۔ طارق قریشی نے خطاب کیا اور حمیدہ شاہین کی شاعری کی کتاب کی رونمائی بھی کی گئی تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ایوب شیخ نے ادا کیئے۔ نورالہدی شاہ نے مزید کہا کہ سندھی ادب کی یہ بنیادی خوبی ہے کہ اس کی جڑیں سندھی سماج میں پیوست ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ شاہ لطیف کی شاعری کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے دھرتی کے لوگوں سے محبت کی ہے لوگوں کے پھٹے ہوئے کپڑوں اور ننگے پاؤں سے بھی شاہ لطیف کی شاعری میں محبت ملتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ سندھی ادب سندھ کے لوگوں کے ساتھ جْڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں جب بھی کوئی ظلم و ستم یا نا انصافی ہوتی ہے تو عوام سب سے پہلے ادیب کو پکارتا ہے اور اس کو جگاتا ہے۔ انہوں نے کہا سندھ میں اب تک کسی کو زندہ نہیں جلایا گیا یا مندروں کا احترام موجود ہے تو اس میں سندھی ادب کا بڑا کردار ہے۔ سندھ میں نفرتوں کی آگ بجھانے اور لسانی آگ بجھانے میں سندھی ادیبوں کا بڑا کردار ہے۔ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری تعلیم اکبر لغاری نے کہا کہ ون یونٹ کے زمانے میں ہمارے پاس جو ادب تخلیق ہوا اس میں جوش زیادہ تھا۔ شور تھا۔ ہوش نہیں تھا شور میں بہت سی آوازیں دب گئیں اور جدید پسندیت ادب بھی اس شور میں دب گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کی تقسیم سے بڑے لکھاریوں نے لکھنا چھوڑ دیا 1990 سے دس برسوں تک سندھی ادب میں خاموشی رہی لیکن پچھلے اکیس برسوں سے سنجیدہ اور ہوش والا ادب تخلیق ہو رہا ہے البتہ نئے ادب کے معیار کے لئے کچھ انتظار کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر سحر گل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت سندھی ادب کو بہت دھچکہ لگا لیکن ون یونٹ کے نفاذ کے بعد سندھی ادب کا مزاحمتی دور شروع ہوتا ہے وہاں سے سندھی ادب اور سندھی شاعری میں ترقی پسندیت شروع ہوتی ہے جنرل ضیاء کی آمریت کے خلاف بھی سندھ ادب نے مزاحمت کی لیکن اس دور میں عوام ادیب کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ اس کے بعد طالبانائزیشن یا انتہا پرستی کے خلاف سندھی ادب میں اتنی بڑی مزاحمت نہیں ملتی۔ ممتاز بخاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کا نوجوان آج بھی سوشل میڈیا کے ذریعے مزاحمت کر رہا ہے پوری دنیا میں آگے بڑھ رہا ہے آنے والے دس برسوں میں سندھی نوجوان ڈیپ اسٹیٹ کے تصور کو مسترد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان سے قبل ہم انگریزوں کی نو آبادیت میں تبے جب جان جیکب کو ہیرو کرکے پیش کیا جا رہا تھا وہ ہی جان جیکب جس نے میانی کے میدان میں سندھیوں کو قتل کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اب ہم پھر کسی دوسری قسم کی نوآبادی میں جکڑ گئے ہیں۔ طارق قریشی نے کہا کہ سندھ اب ایک مفتوحہ علاقہ بن چکا ہے جو وڈیروں کو تقسیم کرکے دیا گیا ہے اور سندھی ادیب ادبی میلے منعقد کرنے یا پھر خواتین شعراء کو سوشل میڈیا پر بد کلامی کرنے میں مصروف ہے۔