کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے سیشن ”ہم سب اُمید سے ہیں“ سے خطاب کرتے ہوئے مقبول ترین مزاح نگار ڈاکٹر یونس بٹ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کو ہنسانا اور ان کے لبوں پر مسکراہٹ لانا لکھنے والے کی ذمہ داری ہوتی ہے ناکہ کامیڈین اداکار کی، اگر لکھنے والا مزاح لکھتے وقت دوسروں کو ہنسا نہیں سکتا تو میری نظر میں وہ ایک ناکام رائٹر ہے، مزاح ایک ایسی صنف ہے کہ جس کے بارے میں لکھا جاتا ہے وہ تو مسکراتا ہی ہے مگر اس کا مخالف نہ صرف مسکراتا ہے بلکہ خوب ہنستا بھی ہے، آپ کی کامیابی آپ کے دوستوں کی ناکامی کبھی نہیں ہوتی، زندگی نام ہی بیلنس کا ہے، اگر آپ خود کو بیلنس نہیں کریں گے تو گر جائیں گے، ناظم کاشف گرامی کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر محمد یونس بٹ نے کہا کہ لاہور میں رہتے ہوئے جن دوستوں سے کئی کئی دن اور کئی کئی ماہ تک ملاقات نہیں ہوتی تھی احمد شاہ کے توسط سے اس عالمی اردو کانفرنس میں ان سب سے ملاقات ہوجاتی ہے، انہوں نے کہا کہ میری پیدائش گجرانولہ کی ہے اور یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں بندہ ایک بار پیدا ہوجائے تو پھر اسے پہلوان بننے سے کوئی نہیں روک سکتا، میں بھی پہلوان بننا چاہتا تھا مگر مجھے دیکھ کر میرے استاد پہلوان نے مجھ سے ایک دن کہا کہ تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ تم روزانہ دو کشتیاں دیکھ لیا کرو، انہوں نے کہا کہ میں نے اس مشورے کے بعد پہلوانی کا کام اپنے قلم سے شروع کر دیا اب تک تین سے زائد کتابیں آچکی ہیں انہوں نے بتایا کہ میں نے خود اپنے لیے لکھنا شروع کیا میں جب کسی پر ظلم اور زیادتی دیکھتا تھا تو میں رونے کے بجائے اسے لکھنا شروع کر دیتا تھا اور پڑھ کر اس صفحے کو پھاڑ دیا کرتا تھا یہی میرے رونے کا انداز تھا، پھر میں نے ایک دن سوچا کہ میں خود بہت رو لیا اب دوسروں کو ہنسانے کا کام شروع کرنا چاہیے، انہوں نے بتایا کہ ایک بار ایک تقریب میں اپنی لکھی ہوئی ایک سنجیدہ تحریر لے گیا جو میں نے ”درد“ کے موضوع پر تحریر کی تھی لیکن جب میں نے اسے پڑھا تو لوگ ہنسنے لگے اور مجھے مشورہ دینے لگے کہ میں مزاح پر لکھوں کیونکہ میں مزاح بہتر لکھ سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ میں نے ڈاکٹری اس لیے پڑھی ہے کہ اس کے بغیر شادی نہیں ہو رہی تھی جب کہ میں نے سرجری میں ہاؤس جاب بھی کیا ہے، انہوں نے بتایا کہ میں نے پہلے لکھنا شروع کیا اور پھر پڑھنا شروع کیا جب میری دو کتابیں شائع ہوکر آگئیں تو لوگوں نے مجھے کہا کہ پہلے میں کچھ پڑھ بھی لوں، ڈاکٹری کرنے کے زمانے میں مریض بھی مجھ سے یہ کہا کرتے تھے کہ ہم آ پ کی دوا سے ٹھیک ہوں یا نہ ہوں آپ کی باتوں سے ٹھیک ہوجاتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ ٹی وی کا مقبول ترین پروگرام ”ہم سب اُمید سے ہیں“ الیکشن کے موقع پر شروع کیا گیا تھا مگر عوام نے اسے اتنا زیادہ پسند کیا کہ یہ پروگرام پندرہ سال تک چلا، انہوں نے بتایا کہ بھارت میں بھی مجھ سے مزاح پر لکھوایا گیا ہے، ”ہم سب امید سے ہیں“ جب نشر ہوا کرتا تھا تو بعض سیاست دان مجھ سے اپنے ردِ عمل کا بھی اظہار کرتے تھے مگر جب سیاست دان کو یہ یقین ہو جائے کہ آپ کسی مخصوص ایجنڈے پر کام نہیں کر رہے ہیں تو پھر وہ بُرا نہیں مانتے۔