تازہ ترین
Home / اہم خبریں / آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور ادارہ تعلیم و آگہی کے مشترکہ تعاون سے تین روزہ پاکستان لرننگ فیسٹیول کا آرٹس کونسل کراچی میں شاندار آغاز

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور ادارہ تعلیم و آگہی کے مشترکہ تعاون سے تین روزہ پاکستان لرننگ فیسٹیول کا آرٹس کونسل کراچی میں شاندار آغاز

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام تین روزہ پاکستان لرننگ فیسٹیول (پی ایل ایف) کا شاندار افتتاح صوبائی وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کر دیا، فیسٹیول میں پہلے روز 150 اسکولوں کے تقریباً 15 ہزار طلبہ طالبات نے شرکت کی، اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریری غلام اکبر لغاری، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ ارشاد علی دودھر، سفیر خیرسگالی نے بھی شرکت کی، صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ سول سوسائٹی کی تنظیم ادارہ تعلیم و آگہی کی کاوشیں قابلِ تعریف ہیں، آج بچوں میں جوش اور جذبہ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ایک ہمہ گیر لرننگ پلیٹ فارم ا ور سیکھنے سکھانے کے لیے نئے پُر جوش مواقع فراہم کیے گئے ہیں، اداکار احسن خان نے بات چیت کے ذریعے لرننگ کو فروغ دینے اور اسکولوں میں فیض احمد فیض کو مقبول بنانے کے لیے جو کام کیا وہ ایک اچھی روایت ہے، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ تعلیم سب کے لیے ضروری ہے مگر تعلیم کے حصول کے لیے قابل اساتذہ بھی بے حد ضروری ہیں جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ استاد وہ ہوتا ہے جو طلباء و طالبات کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے ہمیں اپنے نظامِ تعلیم کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ادارہ تعلیم و آگہی کی سی ای او بیلا رضا جمیل نے بتایا کہ آئی ٹی اے اور سی ایل ایف نے کس طرح کووڈ کے دوران کام جاری رکھا تاکہ لرننگ کا عمل جاری رہ سکے۔ سی ایل ایف کی شریک بانی اور مشیر امینہ سید نے بچوں اور اساتذہ میں مطالعہ، تخلیقی صلاحیتوں اور لرننگ کے فروغ کے لیے شراکت داروں کے تعاون کو سراہا۔ فیسٹول میں او یو پی کے منیجنگ ڈائریکٹر ارشد سعید حسین، برٹش کونسل کے ایریا ڈائریکٹر مائیکل ہولگیٹ، محمد باقر، عبداللہ خان اور سائرہ خان بھی شریک ہوئیں۔ ڈیف ریچ کے طلبہ نے قومی ترانہ کے ساتھ فیسٹیول کا آغاز کیا، جوزف کانوینٹ کے طلبہ نے زہرا نگاہ کا تحریر کردہ ترانہ ”ہمیں کتاب چاہیے“ گا کر سنایا، اس ایونٹ میں قوت گویائی اور بصارت سے محروم بچوں کے لیے علیحدہ سیشن ہوئے۔ بچوں کی 28 رنگا رنگ اور پرجوش کتابوں کی رونمائی کی گئی۔ جسے آر ٹی آر نے تیار کیا اور آئی ٹی اے پاکستان لٹریسی پراجیکٹ کے تحت انہیں اردو میں ڈھالا۔ چار دیگر کتابوں کی بھی رونمائی کی گئی ان میں امینہ علوی کی ”ایک سبق سیکھا“، ”کون بادشاہ بننا چاہتا ہے“، ما ریا ریاض کی ”ہمارا ادبی جشن“ اور فوزیہ من اللہ کی "امی اینڈ شبنم” شامل ہیں۔ بی او پی کے سی ای او ظفر مسعود نے ینگ آتھر ایوارڈ کا اعلان کیا۔ ا س موقع پر موبائل رکشہ لائبریری،کتاب گاڑی کا بھی اجرا کیا گیا جسے بجا طور پر ”جادو گاڑی“ کہا جاتا ہے۔ کھلی جگہیں اور ہال طلبہ و طالبات سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے، جہاں مختلف سیشنز جاری رہے۔ وینیوز کے نام مختلف اہم شخصیات اور مقامات سے منسوب تھے جن میں شاہ عبداللطیف بھٹائی، سہیل رانا، حسینہ معین، احمد شاہ، فہمیدہ ریاض، موہنجو داڑو، انیتا غلام علی، صادقین کی گلی، جمشید نسروانجی، مہتا کورٹ یارڈ اور برنس روڈ شامل تھے۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ، زہرہ نگاہ اور مہتاب اکبر راشدی کے ساتھ ادب، زبان اور تہذیب پر گفتگو کا سیشن ہوا۔ شاعری کے سیشن ”آؤ بیت بازی سیکھیں“ میں سید نصرت علی شریک ہوئے۔ پی ایل پی اور نوجوان مصنفین کی کتابوں کے اجرا کی تقریب کی نظامت رومانہ حسن، ڈاکٹر فوزیہ خان، راشدی اور عطیہ داؤد نے کی۔ پہلے دن فیسٹیول کا اختتام علی حمزہ را کے جمیل اور ریپرز وقاص آکا” کاکے” کے ناقابل فراموش کنسرٹ کے ساتھ ہوا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے