کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ پاکستان آفاق احمد نے اپنی رہائش گاہ پر آنے والے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مہاجر ماوُں، بہنوں نے تحریک میں ہمیشہ ہر اول کردار ادا کیا ہے اور اس تحریک کو زندہ و جاوید رکھا ہے، ہم نے اپنی ان ہی مہاجر ماوُں بہنوں کو خراج ِ تحسین پیش کرنے کے لئے اس ماہ فروری کی 26 تاریخ کو منگل بازار گراؤنڈ گلشن اقبال میں مہاجر خواتین کنونشن کا اہتمام کیا ہے کہ جس میں مہاجر خواتین کی ایک بڑی تعداد اس کنونشن میں شرکت کرے گی اور اسکے بعد ان اجتماعات کا سلسلہ شہر کراچی سمیت دیگر شہروں میں پھیلایا جائیگا۔ آفاق احمد نے ایک دفعہ پھر اپنے موقف کو دوہراتے ہوئے کہا کہ میرے ایک سابقہ بیان کو لے کر خوب شور مچایا گیا کہ میں دوبارہ اس شہر کراچی اور اس میں رہنے والے اپنے لوگوں کو لسانیت کی آگ میں جھونک رہا ہوں لیکن میں آج آپ کے توسط سے دوبارہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں کسی لسانیت کی ہوا کو بڑھاوا نہیں دے رہا اور نہ ہی میں نے کسی مخصوص قومیت کی جانب اشارہ کیا ہے کہ جس سے لسانیت کا تاثر لیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ شہر ہمارا ہے اور اسے ہم نے اپنے خون سے سینچا ہے، یہاں کے معاشی حالات و و سائل پر کسی اور کا قبضہ ہم گوارہ نہیں کرسکتے، جو لوگ بھی اس شہر میں روزگار کے حصول کیلئے آئے وہ ہمارے بھائی ہیں لیکن اس شہر کی معیشت، ثقافت اور پر رونق زندگی کے ساتھ کسی کا بھی کھلواڑ ہم نہیں ہونے دیں گے، اس شہر نے بہت قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو ہم ضائع ہونے بھی نہیں دے سکتے، ہم اس شہر کے وارث ہیں اور میرے شہر کا تشخص خراب ہو، میرے لوگوں کا روزگار متاثر ہو، میرے شہر میں غیر قانونی باڑہ مارکیٹیں قائم ہوں کہ جہاں سے میری ماوُں بہنوں کا گزرنا محال ہو، مقامی عتاب و ستم کا شکار ہو، یہ میں یا میری قوم برداشت نہیں کرسکتی، جو میرے شہر اور میرے لوگوں کے معاشی، معاشرتی، سیاسی و سماجی حالات سے کھیلے گا آفاق احمد اسکی ہمیشہ نشاندہی اور آواز بلند کرتا رہے گا۔
آفاق احمد نے کہا کہ یہ شہر مہاجروں کا شہر ہے، یہاں روزگار کے لئے آنے والے، وقتی طور پر سکونت اختیار کرنے والے ہمارے بھائی ہیں لیکن اس شہر کا نظام، اسکا انفراسٹکچر اور اسکی تہذیب و ثقافت تبدیل کرنے کی کوئی زحمت نہ کریں، ہم اس شہر اور شہری سندھ کا نظام سنبھالنا اور اسے مستحکم کرنا بخوبی جانتے ہیں۔