کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ نو سو ارب روپے کا پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام صوبوں کے لئے اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔ موجودہ بجٹ میں تنخواہوں میں صرف دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وفاقی کابینہ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کی منظوری تحریک انصاف حکومت کی سخت ناانصافی اور دھاندلی ہے، مہنگائی میں اضافہ اس سے کئی گنا زیادہ ہوا ہے۔ بجلی کے لئے پانچ سو تیس ارب روپے کی سبسڈی کس لئے رکھی گئی ہے جب کہ بجلی کی قیمت پاکستان میں ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ زراعت کے لئے صرف بارہ ارب روپے مختص کرنا اس سیکٹر کے ساتھ مذاق ہے۔ بجٹ میں 8 فیصد افراط زر کے ٹارگٹ سے مہنگائی میں کمر توڑ اضافہ ہوگا۔ بجٹ سے صاف محسوس ہو رہا ہے کہ چھ مہینے بعد ہی منی بجٹ آئے گا۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری بیان میں پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے کابینہ سے منظور ہونے والے بجٹ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ بجٹ میں غریب عوام کو کچھ نہیں ملتا، مافیاؤں کو نوازا جاتا ہے۔ سرکاری ملازمین کے احتجاج کے وقت پچیس فیصد اضافہ کا وعدہ کیا گیا تھا جس سے انتخابی وعدوں کی طرح انحراف کیا جارہا ہے۔ 3 کھرب کا بجٹ خسارہ بہت زیادہ ہے۔ حکومت خسارے کا بجٹ بنا کر قرضوں میں مزید اضافہ کرے گی۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کی طرف پی ٹی آئی کی بھی کوئی توجہ نہیں ہے۔ حکومت ریونیو کے نئے ذرائع تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 4.8 فیصد کا گروتھ ریٹ کا ٹارگٹ بنگلہ دیش سے بھی کم ہے۔ حکومت نے صنعتی ترقی کے لئے اب تک کوئی خاص کام نہیں کیا یے اور اس بجٹ میں بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں ہے۔