تازہ ترین
Home / اہم خبریں / رنگ روڈ اسکینڈل موجودہ حکومت کی بدعنوانیوں میں ایک اور اضافہ ہے۔ الطاف شکور چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

رنگ روڈ اسکینڈل موجودہ حکومت کی بدعنوانیوں میں ایک اور اضافہ ہے۔ الطاف شکور چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

کراچی (رپورٹ:ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ رنگ روڈ راول پنڈی اسکینڈل موجودہ حکومت کی بدعنوانیوں میں ایک اور اضافہ ہے۔ من پسند افراد کی زمینوں کو رنگ روڈ کی حدود میں شامل کر لیا گیا تاکہ منہ مانگے پیسے دے کر نوازا جاسکے۔ منصوبے کی لاگت میں 25 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا تاکہ حکومت کے چند لوگوں کو فائدہ ہو۔ اس معاملہ پر وزیر اعظم کی جانب سے بنائے جانے والے تحقیقاتی کمیشن کا حشر کہیں جہانگیر ترین کے خلاف بنائے جانے والے تحقیقاتی کمیشن کی طرح نا ہو جس میں تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ایف آئی اے اور کمیشن کے سربراہ کو ہی فارغ کر دیا گیا تھا۔ وزیر اعظم کب تک اور کس کس کو صفائیاں پیش کریں گے؟ جہانگیر ترین پر ہاتھ ڈالا تو اس نے فارورڈ بلاک بنا کر کپتان کو کلین بولڈ کر دیا۔ جب تک الیکٹورل رفارمز نہیں لائے جاتے یہ ڈرامہ چلتا رہے گا اور آخری قسط کبھی بھی نہیں آئے گی۔ عوام کو غربت نے مار رکھا ہے لیکن سیاست دانوں کو صرف اپنی کرسیوں کی فکر ہے۔ پاکستان کے عوام کو نااہلوں اور کرپٹ لوگوں کی قیادت کو خیر باد کہنا ہوگا۔ رنگ روڈ کرپشن کیس میں موجودہ اور سابقہ حکومتوں کے لوٹوں کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کرپشن کے دروازے بند کئے جا سکیں۔ پاسبان اسٹیئرنگ کمیٹی کی آن لائن میٹنگ میں رنگ روڈ کرپشن اسکینڈل پر گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ قوم و ملک کے پیسے کو بے رحمی سے لوٹا جا رہا ہے۔ رنگ روڈ کیس میں سابقہ حکومت کے کمشنر راولپنڈی اور دیگر افسران ملوث ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے حامی جاگیرداروں اور پراپرٹی ٹائیکون نے فائدہ اٹھایا جبکہ اب منصوبے کی توسیع کی منطوری دے کر وزیر اعظم نے اپنے معاون خصوصی زلفی بخاری، وفاقی وزیر غلام سرور اور دیگر پراپرٹی ٹائیکون کو فائدہ پہنچایا ہے۔ رنگ روڈ منصوبے میں اربوں کی کرپشن ہوئی ہے، کیا حکومت اصل مجرموں کو بچانا چاہتی ہے؟ آج تک چینی، آٹا، ادویات، پیٹرول اور دیگر کرپشن سکینڈل میں کسی کو سزا نہیں ملی۔ عوام جاننا چاہتی ہے کہ کیا رنگ روڈ کرپشن سکینڈل کی رپورٹ کے بعد کسی کیخلاف ایکشن لیا جائے گا؟ کرپٹ عناصر کا حکومت پر غلبہ ہے۔ حکمران نہ صرف خود کرپشن کرتے ہیں بلکہ کرپشن میں سہولت کاری کے عوض بھی حصہ وصول کرتے ہیں۔ پاکستان قدرتی وسائل اور ٹیلنٹ افراد سے مالا مال ملک ہے۔ کمی صرف اہل اور دیانت دار قیادت کی ہے۔ کرپشن ایک ناسور کی طرح پاکستان میں پھیل چکا ہے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کا علاج کیسے ہو؟ کیونکہ جو علاج کر سکتے ہیں وہ خود اس بیماری کا شکار ہیں۔ دوہری شہریت والے پاکستان کو دوہرا لوٹ رہے ہیں۔ جو وزیر اعظم کرپشن سے مبرا وزرا اور مشیر اکٹھے نہیں کرسکتا، وہ ملک کو کرپشن سے کیسے پاک کرے گا؟ عوام عصبیت کی عینک اتار کر رہنماؤں کا انتخاب کریں کیونکہ پاکستان کے عوام جب تک ان پارٹیوں کے بیچ میں پھنسے رہیں گے ملک میں کوئی بہتری نہیں آسکتی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے