کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما طاہر ملک نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں اپنے 13 سالہ دور اقتدار میں جہاں ہر شعبہ میں بدترین کرپشن اور بیڈ گورنس قائم کی وہیں تعلیم کے شعبہ کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے محکمہ تعلیم میں جو کرپشن، میرٹ کا قتل عام اور بدترین بیڈ گورنس دیکھنے میں آئی اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں کرپشن اور من پسند افراد کی تعیناتیاں اپنے عروج پر ہیں۔ وزیر تعلیم کو تعلیم کے بجائے ہر معاملے میں بولنے کا شوق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نام نہاد صحافی قاسم راجپر ایک سرکاری ملازم ہوتے ہوئے صحافت کی آڑ میں محکمہ تعلیم کا گاڈ فادر بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے اثر و رسوخ کے باعث قاسم راجپر نے سندھی کا ٹیچر ہونے کے باوجود محکمہ تعلیم میں ڈپٹی ڈائریکٹر آڈٹ (ڈی ڈی او فنانس) کی سیٹ حاصل کرلی ہے، جو کہ ٹیکنیکل پوسٹ ہے وہ کسی طرح بھی اس کے حقدار نہیں ہیں۔ یہ باتیں انہوں نے پارٹی دفتر سے جاری اپنے بیان میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے وزیر تعلیم صرف وفاق پر تنقید کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کی نا اہلی کی وجہ سے تعلیم کے میدان میں سندھ پنجاب اور کے پی کے سے کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کو اپنے محکمے کی کرپشن اور بد عنوانی نظر نہیں آتی۔ وزیر تعلیم وفاقی حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں اس لئے ان کے پاس محکمہ تعلیم پر توجہ دینے کے لئے وقت نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ میں میرٹ کا قتل عام کر رہی ہے لیکن صوبائی خود مختاری کے نام پر وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی کرپشن اور بیڈ گورنس پر سوال نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے بیروزگار نوجوان ان با اثر افراد کی وجہ سے اب تک اپنے حق سے محروم ہیں لیکن سندھ حکومت ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے خود گردن تک کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر میڈیا اور اساتذہ تنظیموں کی جانب سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن وزیر تعلیم کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ سندھ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والے بہت جلد پابند سلاسل ہونگے۔ ہم ملک کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں لیکن حکومت سندھ اپنی کرپشن کے تحفظ کے لئے سندھ کارڈ کھیل رہی ہے۔