کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران کراچی سمیت ملک بھر میں عوامی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی رفاحی و فلاحی تنظیمیں قابل تحسین ہیں۔ حکومت عوام کی کفالت کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ حکومت سے مایوس ہو کر لوگ مخیر حضرات اور این جی اوز سے امیدیں لگائے ہوئے ہیں۔ مخیر حضرات اور این جی اوز حقیقی ضرورت مندوں تک امداد پہنچانے کا مربوط نظام بنائیں۔ پیشہ ور گداگروں سے محتاط رہ کر مستحق لوگوں تک راشن اور امدادی رقومات کی ترسیل ممکن بنائی جائے۔ حقیقی ضرورت مندوں اور مستحقین تک امداد پہنچانے کیلئے ان افراد تک رسائی حاصل کرنی ضروری ہے ورنہ اصل حقداروں کی حق تلفی ہوتی رہے گی۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کی صورتحال میں مختلف تنظیمیں عوام تک امداد پہنچانے کے لئے جو کام کر رہی ہیں نچلی سطح تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے پیشہ ور گداگر اس امداد سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ سوائے ایک آدھ فلاحی ادارے کے کسی کی رسائی بھی عام آدمی تک نہیں ہے۔ سفید پوش لوگ فاقوں کی وجہ سے نڈھال ہیں۔ جب تک یہ تنظیمیں اور ادار ے اپنے مصدقہ ذرائع سے محلہ جاتی سطح پر تقسیم کے طریقہ کار کو اپنے ہاتھوں میں نہیں لیں گے اور گھر گھر جا کر ضرورت مند افراد کو تلاش کر کے ضرورت کا سامان اور امدادی رقومات اُن تک نہیں پہہنچائیں گے پیشہ ور گداگر اور بھکاریوں کی چاندی ہوتی رہے گی۔ الطاف شکور نے اپیل کی کہ تمام تنظیمیں اور مخیر حضرات اپنی مدد آپ کے تحت اس معاملے کو سنبھالیں۔ رفاحی تنظیمیں جو راشن تقسیم کرنا چاہتی ہیں وہ بھی اسی طرح اپنی جاننے والوں کے ذریعے مستحقین اور سفید پوش طبقے تک سامان کی تقسیم کا نظام وضع کریں ورنہ پیشہ ور گداگروں کے وارے نیارے ہوتے رہیں گے، اُن کے پاس سالوں تک کا راشن جمع ہو جائے گا اور وہ ذخیرہ اندوز ہو جائیں گے۔ اس وقت بہت بڑا مسئلہ امدادی سامان کی تقسیم کے نظام کی شفافیت ہے، ٹائیگر فورس اس کا حل نہیں ہے۔ اس کا حل محلہ جاتی سطح پر ٹیموں کا خود کو آرگنائز کر کے راشن اور امدادی رقوم کا طریقہ کار اپنے ہاتھوں میں لینا ہے۔ کیونکہ ضرورت مندوں تک وہی درست طریقے سے سامان پہنچا سکتی ہیں۔ امدادی رقوم اور سامان کی تقسیم کے دوران ہونے والے حادثات تشویش کا باعث ہیں، اس سے قبل کہ کوئی بڑا سانحہ ہو جائے یا قتل و غارت گری شروع ہو جائے اور حالات بے قابو ہو جائیں، تقسیم کا نظام اور طریقہ کار درست ہو جانا چاہئے۔ ملک بھر کے مخیر حضرات خصوصا کراچی کے مخیر حضرات کا ظرف ہے کہ وہ ہمیشہ ہر امدادی کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، لیکن جس نیت سے وہ امداد دیتے ہیں وہ نیچے تک نہیں پہنچ پاتی۔ کیونکہ ملک بھر میں جو تنطیمیں کام کر رہی ہیں ان کی رسائی بھی نیچے عام آدمی تک نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے ایک ہی آدمی کے گھر تین تین اور چار چار بار راشن پہنچ رہا ہے اور کسی کے گھر چاول کے دو دانے بھی نہیں پہنچ رہے۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: لاک ڈاؤن کے دوران کارکنان نے اپنی مدد آپ راشن مستحق لوگوں تک پہنچائے۔ چئیرمین پاک سر زمین پارٹی سید مصطفی کمال
https://www.nopnewstv.com/during-the-lockd…tically-extended/